بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلی فون پر رابطہ اور ذاتی معالج سے چیک اپ ‘عمران خان کی درخواستیں منظور
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 اپریل ۔2025 ) سپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے دائر دو اہم درخواستوں کو منظور کرلیا ہے جن میں ان کے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلی فون پر رابطہ کرنے اور ذاتی معالج کی جانب سے میڈیکل چیک اپ جاری رکھنے کی درخواست کی گئی تھی.
(جاری ہے)
وکیل دفاع نے درخواست کی کہ ایک ذاتی معالج سے ماہانہ چیک اَپ کروایا جائے عدالت نے فیصلہ محفوظ کرنے کے بعد درخواستیں منظور کرتے ہوئے مزید کارروائی ملتوی کردی ایک اور درخواست پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے عمران خان اور ان کی ایک اہلیہ بشریٰ بی بی کی قبل از گرفتاری ضمانت کی چھ درخواستوں کی سماعت 6 مئی تک ملتوی کردی ہے.
جیل حکام نے سیکیورٹی خدشات اور انٹرنیٹ کی خرابی کو سابق وزیر اعظم کو یا تو ذاتی طور پر یا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش نہ کیے جانے کی وجوہات کے طور پر بتایا مدعا علیہ نے ایک درخواست دائر کی جس میں عدالت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر میرٹ پر ضمانت کی درخواستوں کا فیصلہ کرے ‘درخواست گزاروں کو پیش کرنے کے بار بار عدالتی احکامات کی متعلقہ پولیس اور جیل حکام نے تعمیل نہیں کی. دریں اثنا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری عامر ضیا نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع کر دی عدالت نے تفتیش کاروں کو بشریٰ بی بی کی حراست میں موجودگی کے دوران انہیں شامل تفتیش کرنے کی ہدایت کی سماعت میں وکلائے دفاع نے بھی سابق خاتون اول کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی جسے قبول کر لیا گیا کیس کی سماعت 6 مئی تک ملتوی کردی گئی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے عمران خان کی کی درخواست درخواست کی
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔