جماعت اسلامی کی پاکستان کیجانب سے اسرائیل مخالف قراردار میں نرمی کی کوشش کی سخت مذمت
اشاعت کی تاریخ: 16th, April 2025 GMT
اپنے مذمتی بیان میں کاشف سعید شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکومت فی الفور مجوزہ قرارداد میں نرمی کرنیوالے سفارتی اہلکاروں کو برطرف، فلسطینی قوم سے معافی اور اسرائیل کیخلاف اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر جارحانہ مؤقف اپنا کر غزہ کے شہداء سے وفاداری کا ثبوت دیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے امریکن جیوش (یہودی) کونسل کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کردہ او آئی سی کی قرارداد میں اسرائیل کیخلاف سخت شقیں نکلوانے میں پاکستانی کردار کو سراہنے والے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران ایک جانب اسرائیل کیخلاف جھوٹا مذمتی بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری جانب درپردہ طور پر اسرائیل کیلئے نرمی اور خیرسگالی کے جذبات ان کی مسلم دشمنی اور قبلہ اول کی آزادی کو سبوتاز کرنے کی سازش کے ذریعے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔ اپنے مذمتی بیان میں کاشف سعید نے کہا کہ 57 اسلامی ممالک کی نمائندگی کرنے والے او آئی سی کے ممالک اور ان کے نام نہاد مسلم حکمرانوں کی جانب سے پچھلے ڈیڈھ سال سے اسرائیل کی زبانی مذمت اور غزہ کے معصوم مسلمانوں کی نسل کشی پر جرأت مندانہ کردار ادا کرنے کی بجائے مگر مچھ کے آنسو بہانے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔
کاشف سعید شیخ نے کہا کہ اب ایک مذمتی قرارداد کو بھی پاکستان کے بزدل حکمرانوں کی سہولتکاری سے مزید نرم کرنے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ 57 اسلامی ممالک کے حکمران امریکی سامراج کی آشیرباد سے اسرائیل کی سہولتکاری اور غزہ جنگ میں حماس کیبجائے اسرائیلی ناجائز اور قابض ریاست کے ساتھ کھڑی ہیں، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جارحیت کو حق دفاع ثابت کرنے والے مسلم حکمران روز محشر حضور کو کیا منہ دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے 25 کروڑ مسلمانوں کا پُرزور مطالبہ ہے کہ پاکستانی حکومت فی الفور مجوزہ قرارداد میں نرمی کرنے والے سفارتی اہلکاروں کو برطرف، فلسطینی قوم سے معافی اور اسرائیل کیخلاف اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر جارحانہ مؤقف اپنا کر غزہ کے شہداء سے وفاداری کا ثبوت دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کیخلاف اسرائیل کی کاشف سعید نے کہا کہ غزہ کے
پڑھیں:
اسرائیل کے اعتراض کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارہ کا علاقہ اور لبنانی قلعے عالمی ورثے قرار
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کی عالمی ورثہ کمیٹی نے اسرائیل کے اعتراضات کے باوجود مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی مقام سبسطیہ اور جنوبی لبنان کے جبل عامل خطے کے پانچ تاریخی قلعوں کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں مقامات کو ساتھ ہی خطرے سے دوچار عالمی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
اسرائیل نے اس فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام سیاسی نوعیت کا ہے، اور خاص طور پر لبنان کے بیوفورٹ قلعہ کے حوالے سے سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب فلسطینی اور لبنانی حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔
یونیسکو کی کمیٹی نے لبنان کے قدیم شہر صور کو بھی تنازع اور ممکنہ نقصان کے خدشات کے باعث خطرے سے دوچار عالمی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔