چینی صدر کے جنوب مشرقی ایشیا کے حالیہ دورے پر سی ایم جی کی رپورٹس کے عالمی اثرات
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
بیجنگ : چینی صدر شی جن پھنگ نے کمبوڈیا کا سرکاری دورہ کیا۔ چائنا میڈیا گروپ نے اس دورے کی مکمل میڈیا کوریج کی۔بیجنگ کے وقت کے مطابق 18 اپریل دن 11:00 بجے تک، “صدر شی جن پھنگ کے جنوب مشرقی ایشیا کے دورے” سے متعلق سی ایم جی کے ذریعے نشر کی جانے والی رپورٹس کی دیکھے جانے اور براؤزنگ کی تعداد 4.88 بلین تک پہنچ گئی۔ اس حوالے سے 12 لائیو خصوصی پروگرام پیش کیے گئے۔ 75 حالات حاضرہ کی خبریں پورے نیٹ ورک پر سب سے پہلے جاری کی گئیں۔ 152 نیوز ویڈیوز کو بیرون ملک ٹی وی اسٹیشنوں پر 7,642 بار نشر کیا گیا۔ 4,061 کثیر اللثانی رپورٹس کو غیر ملکی میڈیا نے 14,000 مرتبہ دوبارہ شائع کیا۔سی ایم جی کی بین الاقوامی ویڈیو نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری کردہ خبروں کی ویڈیوز کو 43 ممالک اور خطوں میں 131 بیرون ملک مین اسٹریم ٹی وی اسٹیشنوں نے 947 بار نشر کیا، جن میں بی بی سی، سی این این، سی این بی سی، فرانس 24، اطالوی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن، ہسپانوی نیشنل ٹیلی ویژن، کینیڈا کا TV5، آسٹریلیا کا ایس بی ایس، قطر الجزیرہ اور مصر کا ٹومارو ٹی وی وغیرہ شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔