بھارتی کرکٹر ویبھوو سوریاونشی 14 سال کی عمر میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی تاریخ میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے کھیلنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے ہیں۔

لکھنو سپر جائینٹس کے خلاف راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ڈیبیو میں پہلے بال پر ہی چھکا مار کر سب کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ انہوں نے اس میچ میں 20 بالز میں 34 رنز بنائے جس میں 4 چوکے اور چھکے بھی شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیے: بابر اعظم ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بن گئے

اسی میچ کے بعد وہ ٹی ٹوینٹی کھیلنے والے کم عمر ترین کھلاڑی بھی بن گئے۔

اس سے قبل نومبر 2024 میں آئی پی ایل کے لیے بولی میں فرنچائزز نے جہاں بڑے ناموں کو اپنی ٹیم کا حصہ بنایا وہیں ویبھوو سوریاونشی بھی پہلی بار آئی پی ایل کا حصہ بن گئے تھے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 13 سال تھی۔ راجستھان رائلز نے سوریاونشی کو ایک کروڑ 10 لاکھ بھارتی روپے میں خریدا تھا۔

ویبھوو 27 مارچ 2011 کو ریاست بہار کےگاؤں تاجپور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنے کرکٹ کا سفر صرف 4 سال کی عمر میں شروع کیا اور پھر 9 سال کی عمر میں ان کے والد نے انہیں قریبی قصبےکی ایک کرکٹ اکیڈمی میں داخل کروایا۔ ویبھوو نے جنوری 2024 میں صرف 13 سال کی عمر میں ریاست بہار کے لیے رانجی ٹرافی ایلیٹ گروپ بی کے مقابلے میں ممبئی کے خلاف فرسٹ کلاس ڈیبیو کیا۔

یہ بھی پڑھیے: آئی پی ایل 2025 کے لیے کھلاڑیوں کی بولی کا آغاز، سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے 10 کھلاڑی کون سے ہیں؟

ویبھوو سوریا ونشی نے یوتھ ٹیسٹ میں چنئی کے ایم اے چدمبرم اسٹیڈیم میں بھارت کی انڈر19 ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے آسٹریلیا کی انڈر19 ٹیم کے خلاف شاندار سینچری بھی بنائی۔ نوجوان کھلاڑی نے 62 گیندوں پر 104 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور یوتھ ٹیسٹ فارمیٹ میں سینچری اسکور کرنے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔

سوریا ونشی یوتھ ٹیسٹ فارمیٹ میں دوسری تیز ترین سینچری بنانے والے کھلاڑی اور اس فارمیٹ میں سب سے تیز سینچری بنانے والے بھارتی کھلاڑی بھی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی پی ایل کرکٹ کم عمر ترین کھلاڑی کھلاڑی ویبھوو سوریا ونشی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی پی ایل کرکٹ کم عمر ترین کھلاڑی کھلاڑی کم عمر ترین کھلاڑی سال کی عمر میں سوریا ونشی آئی پی ایل کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا