ایم ڈبلیو ایم گلگت کے صدر نے ایک بیان میں کہا کہ سہولت کار حکومت کے کمیشن خور مشیر کی آغا راحت کے خلاف بیان بازی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے حکومتی کرپشن سے توجہ ہٹانے اور فرقہ واریت پھیلانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ گلگت بلتستان کی معدنیات، جنگلات، زمینیں و دیگر وسائل کے تحفظ کے حوالے سے قائد ملت جعفریہ سید راحت حسین الحسینی کا بیان حقیقت پر مبنی ہے۔ آغا راحت نے گلگت بلتستان کے 20 لاکھ عوام کی ترجمانی کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار عارف حسین قنبری  صدر ایم ڈبلیو ایم گلگت نے اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سہولت کار حکومت کے کمیشن خور مشیر کی آغا راحت کے خلاف بیان بازی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے حکومتی کرپشن سے توجہ ہٹانے اور فرقہ واریت پھیلانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

.

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

مسلمانوں پر حکومتی ظلم کے حوالے سے مولانا محمود مدنی کے بیان پر بی جے پی کی شدید تنقید

جمعیت علماء ہند کے سربراہ نے کہا تھا کہ بابری مسجد، تین طلاق اور دیگر فیصلوں کے بعد یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ عدلیہ حکومتی دباؤ میں کام کررہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء ہند (جے یو ایچ) کے سربراہ مولانا محمود مدنی کے اس بیان پر سیاسی ہلچل تیز ہوگئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کی عدالتیں حکومتی دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔ بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پاترا نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے اپیل کی کہ وہ اس بیان کا از خود نوٹس لے۔ بھونیشور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سمبت پاترا نے کہا کہ ایک عام شہری کی حیثیت سے میں سپریم کورٹ سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ مولانا محمود مدنی کے بیان پر ازخود نوٹس لے، ملک کی سب سے بڑی عدالت فیصلوں میں کبھی مذہب نہیں دیکھتی۔

مولانا محمود مدنی نے بھوپال میں جمعیت علماء ہند کے نیشنل گورننگ باڈی اجلاس میں کہا تھا کہ بابری مسجد، تین طلاق اور دیگر فیصلوں کے بعد یہ تاثر گہرا ہوا ہے کہ عدلیہ حکومتی دباؤ میں کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپر یم کورٹ تب ہی سپریم کہلانے کی مستحق ہے جب وہ آئین اور قانون کی پاسداری کرے، ورنہ اسے "سپریم" نہیں کہا جا سکتا۔ مولانا محمود مدنی نے "وندے ماترم" سے متعلق بھی رائے ظاہر کی جس پر بی جے پی نے شدید ردعمل دیا۔ سمبت پاترا نے کہا کہ وندے ماترم کسی مذہب کی ملکیت نہیں، یہ ہماری زمین کی عظمت اور قربانیوں کی علامت ہے۔ مولانا محمود مدنی کی یہ سیاست ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔ بی جے پی ترجمان کے مطابق ملک اس وقت "وندے ماترم" کے 150 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے اور ایسے موقع پر اس کے خلاف بیان دینا "ملک دشمن عناصر کی حوصلہ افزائی" ہے۔

سمبت پاترا نے مولانا محمود مدنی کے استعمال کردہ لفظ "جہاد" پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاد جیسا لفظ بے حد غیر ذمہ دارانہ ہے اور "سب کا ساتھ، سب کا وکاس" کی سوچ کے خلاف جاتا ہے، کسی ذمہ دار لیڈر کو ایسے الفاظ سے لوگوں کو بھڑکانا نہیں چاہیئے۔ اپنے بھوپال خطاب میں مولانا محمود مدنی نے کہا تھا کہ منظم کوششیں جاری ہیں جن کے ذریعے ایک مخصوص طبقہ کی بالادستی قائم کرنے اور دیگر طبقات کو قانونی، سماجی اور معاشی طور پر بے حیثیت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے معاشی بائیکاٹ، بلڈوزر کارروائیوں، ماب لنچنگ، اوقاف کو کمزور کرنے اور مدارس کے خلاف منفی مہم کو منصوبہ بند اقدامات قرار دیا۔

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ منوج تیواری نے بھی مدنی کے بیان کو "اشتعال انگیز" اور "ناقابل قبول" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان دنیا میں سب سے زیادہ محفوظ اور باعزت مقام بھارت میں پاتے ہیں۔ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے قومی ترجمان ونود بنسل نے مولانا محمود مدنی کے بیان کو "قوم اور عدلیہ کے خلاف خطرہ" قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ایسے بیانات "ملک کی تھالی میں چھید کرنے" کے مترادف ہیں۔ ان کے مطابق مولانا محمود مدنی جیسے رہنما "جہاد" کے نام پر نوجوانوں کو بھڑکا کر شدت پسندی کو فروغ دیتے ہیں، جو ملک کی یکجہتی اور سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسلمانوں پر حکومتی ظلم کے حوالے سے مولانا محمود مدنی کے بیان پر بی جے پی کی شدید تنقید
  • عہدے سے ہٹانے کی خبروں پر گورنر خیبرپختونخوا کا ردعمل سامنے آگیا
  • پاکستان معدنی وسائل، مقامی مواد اور نوجوانوں کے جوہر میں دنیا سے کم نہیں: ڈاکٹر طاہر عرفان
  • پاکستان معدنی وسائل، مقامی مٹیریل اور نوجوان افرادی قوت کےاعتبار سےدنیا سے کم نہیں، ڈاکٹر طاہر عرفان
  • عوامی فلاح کیلئے کام کرنے والے ادارے حکومت کے حقیقی شراکت دار ہیں، نگران وزیر اعلیٰ
  • عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاق کو نوٹس
  • یو اے اِی سے متعلق کمیٹی کا بیان پرانے ڈیٹا پر مبنی ہوسکتا ہے، ترجمان دفتر خارجہ
  • سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کے نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس
  • سابق صدر عارف علوی کے بیٹے کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے پر وفاقی حکومت کو نوٹس
  • پشاور ہائیکورٹ کا ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم