ملک بھر میں 22 تا 27 اپریل گرمی کی شدید لہر کا امکان، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک بھر میں 22 تا 27 اپریل گرمی کی لہر کا امکان ہے، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق این ڈی ایم اے نے اپنے الرٹ میں کہا ہے کہ 22 تا 27 کے دوران ملک کے بیشتر حصوں موسم خشک اور گرم رہنے کا امکان ہے، بلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں ہفتے کے دوران موسم خشک اور درجہ حرارت معمول سے کافی زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں اور خیبر پختونخوا کے چند اضلاع بشمول ایبٹ آباد، بنوں، بونیر، چارسدہ، چترال، دیر، ہری پور، کرک، کوہاٹ، کوہستان، خیبر، کرم، مانسہرہ، مہمند، نوشہرہ، پشاور، صوابی، سوات اور وزیرستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے ساتھ ساتھ بارش کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا امکان ہے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔