اے این ایف نے خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کراچی بندرگاہ پر انسداد منشیات کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت بھیجے جانے والے خشک میوہ جات پر مشتمل کنٹینر سے بھاری مقدار میں افیون برآمد کر لی۔

ترجمان اے این ایف کے مطابق خشک میوہ جات (کشمش) کی آڑ میں مہارت سے چھپائی گئی 2600 کلو گرام افیون برآمد ہوئی۔

اے این ایف کے پورٹ کنٹرول یونٹ نے پروفائلنگ اور خفیہ اطلاع پر افغان ریڈ اور بلیک ریزن کے کنسائمنٹ کو بدالدین یارڈ کراچی میں روک لیا۔ یہ سامان کابل سے قندھار میں افغان کسٹمز حکام نے کلیئر کیا اور پھر چمن بارڈر کے ذریعے پاکستان سے کینیڈا بھیجا جانا تھا۔

اے این ایف پی سی یو ٹیم نے 19 اپریل کو ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینل (SAPT) پر سامان کی مکمل تلاشی لی، جس کے دوران 2600 کلو گرام افیون برآمد ہوئی۔

منشیات کو انتہائی مہارت سے کشمش میں اس طرح ملایا گیا تھا کہ ان کا رنگ اور شکل ایک جیسی تھی، جس سے شناخت کرنا تقریباً ناممکن تھی۔

مجموعی طور پر 1816 کارٹن میں سے 260 کارٹن میں سے افیون برآمد ہوئی۔ ہر کارٹن میں تقریباً 10 کلوگرام افیون، کشمش کے ساتھ انتہائی مہارت سے ملی ہوئی تھی۔

اے این ایف ٹیم نے اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیت اور انتہائی مہارت سے ان تمام کارٹن کی تلاشی لی۔

یہ شپمنٹ سلطان محمد سلطانی ولد نور محمد، سکنہ قندھار، افغانستان کی جانب سے محمد کمپنی امپورٹ ایکسپورٹ، کینیڈا کے لیے بک کروائی گئی تھی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق سامان کا اصل مالک قندھار کا رہنے والا افغان شہری ہے، جس کی شناخت افغان حکومت کے ساتھ وزارت خارجہ (MoFA) کے ذریعے واضح کر دی گئی ہے تاکہ مجرم کی گرفتاری عمل میں لائی جا سکے۔

یہ کامیاب کاروائی اے این ایف کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جدید اسمگلنگ کے حربوں کا مؤثر انداز میں سدباب کرنے کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افیون برآمد اے این ایف مہارت سے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سونا مزید سستا، فی تولہ قیمت میں کتنی بڑی کمی ریکارڈ ہوئی؟
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن