معروف ٹک ٹاک اسٹار کا مبینہ لیک ویڈیو پر ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
معروف ٹک ٹاک اسٹار سامعہ حجاب نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مبینہ نازیبا ویڈیوز کو جعلی قرار دے دیا۔
’رشتہ پکا رشتہ پکا‘ ویڈیوز سے مشہور ہونے والی ٹک ٹاکر سامعہ حجاب نے وائرل ہونے والی مبینہ ویڈیوز پر اپنا ردعمل دے دیا۔ سامعہ کے مطابق مذکورہ ویڈیوز جعلی ہیں اور ان کا ان ویڈیوز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سامعہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو نے پرائیویسی، کردار کشی، اور آن لائن شخصیات کی سیکیورٹی سے متعلق بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی سوشل میڈیا صارفین کا ماننا ہے کہ یہ نازیبا ویڈیو اصلی ہے تاہم ٹک ٹاکر کا کہنا ہے کہ ان کے سابقہ بوائے فرینڈ نے یہ ویڈیوز ایڈٹ کر کے سوشل میڈیا پر پھیلائی ہیں۔
A post shared by All Pakistan Drama Page (@allpakdramapageofficial)
اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ویڈیو جعلی ہے اور مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کے ذریعے تیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’میرا اس ویڈیو سے کوئی تعلق نہیں، میری شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے یہ سب سازش کی جا رہی ہے۔‘
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا ہونے والی
پڑھیں:
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین نے نیشنل سائبرکرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں درخواست جمع کرادی۔
ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا پر مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مہم قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔
امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام
میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری اور شفاف تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید :