بھارت: مشہور ٹی وی اسٹار کی 36 سال کی عمر میں خودکشی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
MEERUT:
بھارت کے ٹی وی اسٹار اور مشہور ڈراما تارک مہتا کا الٹا چشمہ کے اداکار للیت مانچندا اپنے گھر میں مردہ پائے گئے اور پولیس نے ان کی خود کشی کی تصدیق کردی ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 36 سالہ ٹی وی اسٹار للیت مانچندا کی لاش 21 اپریل کو ان کے رہائش سے برآمد ہوئی تھی اور پولیس تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اداکار کی لاش ان کے گھر سے پھندا لگی ہوئی ملی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکام نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی وہاں پہنچے اور اداکار کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردی۔
پولیس نے بتایا کہ جائے وقوع سے کوئی نوٹ نہیں ملا اور ابتدائی تفتیش میں قتل یا کسی اور کے ملوث ہونے کے نشانات نہیں ملے۔
تارک مہتا کا الٹا چشمہ کے مشہور اداکار کی موت کی خبر سنتے ہی ان کے دوستوں، مداحوں اور ساتھی غم میں ڈوب گئے ہیں۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ للیت مانچندا ذہنی مسائل کے شکار تھے اور حالیہ مہینوں میں مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ انہیں ممبئی میں مالی مشکلات کا سامنا تھا اور 6 ماہ قبل واپس اپنے شہر میرٹھ منتقل ہوگئے تھے۔
سائن اینڈ ٹی وی آرٹسٹس ایسوسی ایشن نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ساتھی اداکار کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کی انسٹاگرام پوسٹ میں ان کی تصویر بھی جاری کی۔
ایسوسی ایشن نے للیت مانچندا کی اچانک موت پر ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور للیت مانچندا 2012 سے ایسوسی ایشن کا رکن تھے۔
View this post on InstagramA post shared by CINTAA | Cine & TV Artistes' Association (@cintaaofficial)
للیت مانچندا نے ٹی وی ڈراموں اور پروگراموں کے ساتھ ساتھ بالی وڈ کی چند فلموں میں مختصر کردار بھی ادا کیے تاہم انہیں شہرت تارک مہتا کا الٹا چشمہ سے ملی اور ان کا آخری کام اسی مزاحیہ سیریز میں نظر آیا۔
سوشل میڈیا میں اسی ڈرامے کی مناسبت سے ان کی تصویر دلیپ جوشی کے نام سے مشہور ہوئی تھی۔
انہوں نے یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے، کرائم پیٹرول، انڈیاز موسٹ وانٹڈ سمیت دیگر پروگراموں میں بھی کام کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔