اسلام آباد:

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عوام کی سہولت کے لیے متعدد نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت سی ڈی اے میں اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں نئے منصوبوں کی باضابطہ منظوری دی گئی۔ اجلاس میں ٹریفک کے دیرینہ مسائل کو حل کرنے کے لیے فیض آباد انٹرچینج کی ری ماڈلنگ کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ فیض آباد انٹرچینج میں توسیع کرتے ہوئے دو نئی لینز کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔

اجلاس میں فیصل چوک پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے 2+2 لین کے انڈر پاس کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محسن نقوی نے ہدایت دی کہ انڈر پاس کی پلاننگ آئندہ ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کی جائے۔ اسی طرح بلیو ایریا میں مکمل شدہ پارکنگ پلازہ کو جلد فعال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے پارکنگ پلازہ اور فوڈ اسٹریٹ کے لیے جدید اور منافع بخش بزنس ماڈل تیار کرنے کی ہدایت دی۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پارکنگ پلازوں کی تعمیر کی منظوری دی گئی جب کہ مقامات کی جلد نشاندہی کرنے کی ہدایت دی گئی۔

اجلاس میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ خرم آغا، چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ دورانِ اجلاس بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلیو ایریا فوڈ اسٹریٹ میں پیڈسٹرین ٹریکس، فوڈ اسٹالز، بیٹھنے کے بینچز اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے مخصوص جگہوں کا تعین ہو چکا ہے۔

بلیو ایریا پارکنگ پلازہ میں کمرشل دکانیں، روف ٹاپ ریستوران، پلے لینڈ، سینما اور دیگر سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا فیصلہ کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے