Jang News:
2026-07-24@11:51:17 GMT

سندھ: سائٹ لمیٹڈ کے ایم ڈی کی تقرری کا نوٹیفکیشن معطل

اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT

سندھ: سائٹ لمیٹڈ کے ایم ڈی کی تقرری کا نوٹیفکیشن معطل

— فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ میں سائٹ لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تقرری کے خلاف سماعت ہوئی۔

عدالت نے سندھ حکومت کو عبوری اہل افسر کو قائم مقام ایم ڈی کی تقرری کی اجازت دیتے ہوئے ایم ڈی کی تقرری کا نوٹیفکیشن آئندہ سماعت تک معطل کردیا۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر سندھ حکومت سے تقرری کی وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ سائٹ لمیٹڈ کے ایم ڈی کی دوبارہ تقرری کی وضاحت کے لیے سندھ حکومت کے سینیر افسر پیش ہو۔

سائٹ لمیٹڈ منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی 2 سے3 سال کیلئے کی جائے، زبیر موتی والا

کراچی سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے سرپرست زبیر.

..

سماعت کے دوران وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ گریڈ 19 کے افسر سید عارف احمد زیدی کو بطور ایم ڈی سائٹ لمیٹڈ تعینات کیا گیا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازم کو ایم ڈی کے عہدے پر تعینات کیا جاسکتا ہے۔ عارف زیدی کا سرکاری ملازمت کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے، انہیں ملازمت سے برخاست کیا گیا تھا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت نے پہلے بھی عارف زیدی کی بطور ایم ڈی تعیناتی کا نوٹیفکیشن معطل کیا تھا۔

عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 7 مئی تک جواب طلب کرلیا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سائٹ لمیٹڈ ایم ڈی کی کی تقرری عدالت نے

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری