عمران خان کی نااہلی پر احتجاج؛ پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
عمران خان کی نااہلی پر احتجاج؛ پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد WhatsAppFacebookTwitter 0 23 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) عمران خان کی نااہلی پر احتجاج کے کیس میں عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کی نااہلی پر فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جب کہ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کردیا گیا۔
کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی ، جس میں فیصل جاوید خان، عامر کیانی، واثق قیوم اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، جہاں پی ٹی آئی وکلا نے عدالت سوے فرد جرم مؤخر کرنے کی استدعا کی۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ہر جگہ یہ کہا جاتا ہے کہ مقدمات درج ہوگئے، ٹرائل نہیں ہورہا۔ یہ آپ لوگ ہی کہتے ہیں یا تو کہہ دیں کہ مقدمات کا ٹرائل نہ ہو۔
وکیل سردار مصروف ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ بات ان کیسز کی نہیں ہے، یہ سیاسی کیسز کی بات ہے۔ عدالت نے کہا کہ آپ کی بریت کی درخواستیں خارج ہوچکی ہیں، اب تو وہ چیلنج بھی ہوچکی ہیں۔
عدالت نے راجا راشد حفیظ کو ایک لاکھ روپے کا مچلکہ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ راشد حفیظ جب تک مچلکہ جمع نہیں کروائیں گے کورٹ روم نہیں چھوڑیں گے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 12 مئی تک ملتوی کردی۔
کیس کے سلسلے میں ملزمان کی جانب سے وکیل سردار مصروف خان ، زاہد بشیر ڈار عدالت میں پیش ہوئے ۔ مقدمے کے ملزمان میں فیصل جاوید خان، واثق قیوم، عامر کیانی ودیگر نامزد ہیں۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کیخلاف تھانہ آئی 9 میں مقدمہ درج ہے۔
علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات میں ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت انسداددہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں عدالت نے پی ٹی آئی کے 3 ایم این ایز کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کردی۔
دورانِ سماعت پی ٹی آئی ایم این ایز، ساجد خان، فضل محمد خان اور آصف خان عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ باقی ملزمان کی ضمانتیں 5 مئی کو فکس ہیں۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ میں نے یہ الگ رکھی تھی تاکہ ملزمان شامل تفتیش ہوجائیں۔ ان درخواستوں کو بھی باقی کا ساتھ اب رکھ لیتے ہیں۔
بعد ازاں عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی ۔ ملزمان کی جانب سے ایڈووکیٹ طلعت رضوان سیال عدالت میں پیش ہوئے۔
یاد رہے کہ پی ٹی آئی ایم این ایز تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمے میں نامزد ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا یوٹرن: چین کے ساتھ معاہدہ کرنے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا یوٹرن: چین کے ساتھ معاہدہ کرنے کا اعلان پولیس کو دھمکیاں دینے کا کیس؛ عالیہ حمزہ کو عدالت سے ریلیف مل گیا عمران خان کی گرفتاری کو ڈیڑھ سال گزر چکا جسمانی ریمانڈ کا سوال پیدا نہیں ہوتا: عدالت نہتے افراد پر بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں، فالس فلیگ ڈرامہ رچانا بھارتی روایت ہے، جلیل عباس جیلانی پاکستان کے کارڈینل جوزف کاٹس بھی نئے پوپ کے انتخاب میں حصہ لیں گے بھارتی فالس فلیگ آپریشن کا مقصد تحریکِ آزادی کشمیر کو بدنام کرنا ہے، مشعال ملکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی ا ئی رہنماو ں عدالت میں پیش ہوئے عمران خان کی کی نااہلی پر دیگر ملزمان ملزمان کی عدالت نے
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔