منشیات کی قطر، سعودی عرب اور دبئی اسمگلنگ کی کوششیں ناکام؛ ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
راولپنڈی:
اینٹی نارکوٹکس نے منشیات کی قطر، سعودی عرب اور دبئی اسمگلنگ کی کوششیں ناکام بناتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان اے این ایف کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے، اس دوران 8 مختلف کارروائیوں میں 5 ملزمان کو گرفتار کرکے 65 لاکھ سے زائد مالیت کی 57.
حکام نے پشاور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دوحا جانے والے مسافر کے ٹرالی بیگ سے 788 گرام آئس برآمد کرلی۔ علاوہ ازیں ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جدہ جانے والے مسافر کے ٹرالی بیگ میں چھپائی گئی 1460 عدد نشہ آور گولیاں برآمد کی گئیں جب کہ اسلام آباد میں کوریئر آفس میں دبئی بھیجے جانے والے پارسل سے 4.485 کلو مشتبہ منشیات برآمد ہوئی ہے۔
اُدھر پسنی، گوادر کے غیر آباد علاقے سے اسمگلنگ کے لیے چھپائی گئی 46 کلو چرس برآمد ہوئی جب کہ جناح کرکٹ اسٹیڈیم سیالکوٹ کے قریب سے 2 ملزمان سے 2.4 کلو گرام چرس برآمد ہوئی۔ علاوہ ازیں کوئٹہ میں کوریئر آفس کے ذریعے خانیوال بھیجے جانے والے پارسل سے 2 کلو آئس برآمد ہوگئی۔
پشاور میں کوریئر آفس کے ذریعے لاہور گوجرانوالہ اور فیصل آباد بھیجے جانے والے پارسل سے مجموعی طور پر 130 گرام چرس اور 600 عدد نشہ آور گولیاں برآمد کرلی گئیں۔ شاہ خاکی راولپنڈی کے قریب ملزم سے 1 کلو چرس برآمد ہوئی ہے۔
اے این ایف نے گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: برآمد ہوئی جانے والے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔