بھارت کو بھرپورجواب دینے کیلئےقومی سلامتی کمیٹی کااجلاس کل طلب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, April 2025 GMT
اسلام آباد:مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعدبھارت کی طرف سے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل اور سفارتی تعلقات کم کرنے سمیت دیگر اقدامات پرپاکستان نے بھرپورردعمل دینے کے لائحہ عمل کے لئے کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس کل طلب کرلیاہے۔نائب وزیراعظم اوروزیرخارجہ اسحاق ڈارکی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کئی گئ پوسٹ میں کہاگہاکہ قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس کل ہوگا،وزیراعظم شہبازشریف اجلاس کی صدار ت کریں گے ،ادھروزیردفاع خواجہ محمدآصف نے بھی قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس کل طلب کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ اجلاس میں بھارتی اقدامات کا خاطرخواہ جواب دینے کافیصلہ کیاجائےگا۔قومی سلامتی کمیٹی کےاجلاس میں کابینہ کے ارکان،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، تینوں سروسزچیفس،دیگراعلیٰ عسکری حکام شرکت کریں گے جب کہ سیکرٹری خارجہ ممتاززہرہ بلوچ کمیٹی کو بھارتی اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دیں گی۔ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت بھی موجود ہ صورتحال پر بربفنگ دے گی۔اجلاس میں لائحہ عمل طے کیاجائے گاجب کہ حکومتی فیصلوں کا اعلان ایک اعلامیہ کے ذریعے کیاجائےگا،وزیراعظم شہبازشریف کابینہ کے اجلاس کے آغاز پر اہم خطاب کریں گے ۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اجلاس میں
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔