پی آئی اے کی نجکاری کے لیے اشتہار جاری، دلچسپی رکھنے والوں سے درخواستیں طلب
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
حکومت نے قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ایک مرتبہ پھر سے اشتہار جاری کر دیا ہے، پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیوں سے آج 24 اپریل کو درخواستیں طلب کر لی ہیں جو کہ 3 جون تک جمع کرائی جاسکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے نجکاری: واحد کمپنی بلیو ورلڈ سٹی نے ریزور سے کم بولی لگادی، معاملہ ملتوی
حکومت کی جانب سے جاری اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ حکومت پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد تک شیئرز فروخت کرنا چاہتی ہے، اس کے علاوہ پی آئی اے کے تمام اہم بزنسز فروخت کرنے کا ارادہ ہے۔ بزنس میں مسافروں اور گراؤنڈ کی ہینڈلنگ، کارگو، فلائٹ کچن، فلائٹ انجینئرنگ اور فلائٹ ٹریننگ بھی شامل ہیں، نجکاری میں پی آئی اے کے اثاثے بھی فروخت کیے جائیں گے۔
پی آئی اے ہر ہفتے میں مجموعی طور پر 268 پروازیں آپریٹ کر رہی ہے، گزشتہ سال پی آئی اے نے 30 روٹس پر پروازیں آپریٹ کیں، نجکاری کے بعد پی آئی اے خریدنے والی کمپنی کو نئے فلیٹ شامل کرنے کے لیے سیلز ٹیکس چھوٹ بھی دی جائے گی۔
پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی رکھنے والی پارٹی کو بولی میں حصہ لینے کے لیے 14 لاکھ روپے نان ریفنڈ ایبل فیس جمع کرانا ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:پی آئی اے ایک دفعہ پھر سبز ہلالی پرچم کا پاسبان بن گیا، خواجہ آصف
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے حکومت کو جولائی تک پی آئی اے کی نجکاری کی ڈیڈ لائن دے رکھی تھی، تاہم ذرائع نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ مقررہ وقت تک پی آئی اے کی نجکاری مکمل نہیں ہو سکے گی البتہ دسمبر تک یہ عمل مکمل ہو سکے گا۔
سیکریٹری نجکاری کمیشن نے چند دن قبل سینیٹ کمیٹی کو بتایا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کرنے والی پارٹیوں کے ساتھ میٹنگ کے لیے کمیٹی قائم کی گئی، اس کمیٹی نے دسمبر سے مارچ تک 4 میٹنگز کی ہیں اور یہ جانچنے کی کوشش کی ہے کہ دلچسپی رکھنے والی پارٹیاں کتنے ارب روپے میں پی آئی اے کی خریداری میں دلچسپی رکھتی ہیں۔
17 مارچ کو کمیٹی نے پی آئی اے کی دوسری مرتبہ نجکاری کے لیے کچھ تجاویز دی ہیں، آخری مرتبہ 65 فیصد شیئر آفر کیے گئے تھے تاہم اس مرتبہ 51 سے 100 فیصد شیئر کی نیلامی کی جائے گی، اس کے علاوہ خریداروں کے لیے کوالفیکیشن کرائٹیریا کو بھی مزید سخت کیا گیا ہے۔
اس مرتبہ نجکاری کا عمل جلد مکمل کرلیا جائے گا
سیکریٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ اس مرتبہ نجکاری کا عمل جلد مکمل کرلیا جائے گا، اس مرتبہ پی آئی اے کے قرض کا بوجھ بھی کم نہیں پڑنا۔ آخری مرتبہ جن کمپنیوں نے خریداری میں دلچسپی ختم کر دی تھی اس مرتبہ ان کی دلچسپی بھی سامنے آرہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی آئی اے سیکریٹری نجکاری کمیشن سینیٹ کمیٹی نجکاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ا ئی اے سیکریٹری نجکاری کمیشن سینیٹ کمیٹی نجکاری ئی اے کی نجکاری نجکاری کمیشن پی ا ئی اے نجکاری کے ئی اے کے کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔