بھارت اوچھی حرکتوں پر اتر آیا، پاکستان دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے بغیر کسی تحقیق کے انڈیا نے حکومتِ پاکستان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ملک بھر میں بلاک کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق پہلگام واقعے کو جواز بناتے ہوئے گورنمنٹ آف پاکستان کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل کو بند کیا گیا ہے۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی درخواست پر ’ایکس‘ نے بھارت میں اکاؤنٹ معطل کیا۔قبل ازیں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 28 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے واہگہ اٹاری سرحد بند کر دی تھی، بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل کر دیا جبکہ پاکستانیوں کے بھارتی ویزے منسوخ اور ہندوستان میں موجود پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم بھی دیا ہے۔پاکستان کی جانب سے بھی بھارتی اقدامات کا بھرپور جواب دینے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔خیال رہے کہ 2 روز قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 27 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار