کشمیر حملے کے بعد بھارت نےحکومت پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ تک رسائی پر پابندی لگا دی
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز) بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مہلک دہشت گردی کے حملے کے بعد سفارتی خرابی کو تیز کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر حکومت پاکستان کا سرکاری اکاؤنٹ بلاک کر دیا ہے۔
یہ اقدام دو جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسیوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کے درمیان نئی دہلی کی جانب سے اسلام آباد کے ساتھ سفارتی تعلقات کو باضابطہ طور پر گھٹانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔ پہلگام حملہ، جس میں سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان سمیت دنیا بھر سے شدید مذمت کی گئی۔
X کے آفیشل ہیلپ سینٹر کے مطابق، پلیٹ فارم حکومتوں کے قانونی مطالبات کی بنیاد پر اکاؤنٹس یا مواد تک رسائی کو محدود کر سکتا ہے۔ پالیسی میں کہا گیا ہے کہ “ہر روز لاکھوں پوسٹس کے ساتھ، ہمارا مقصد قابل اطلاق مقامی قوانین کی پابندی کرتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی کا احترام کرنا ہے۔” پابندیاں عام طور پر صرف اس ملک میں لاگو ہوتی ہیں جہاں سے قانونی درخواست شروع ہوتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔