بھارتی ڈراما پھر فلاپ، پہلگام واقعے میں مردہ قرار دیا گیا جوڑا سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پہلگام حملے کے حوالے سے بھارتی میڈیا کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب ہوگیا۔
پہلگام حملے میں مبینہ طور پر ہلاک بھارتی نیول آفیسر سے منسوب تصاویر اور ویڈیوز جعلی نکلیں۔
The people who were declared de@d in the Pahalgam attack by the Indian media to garner TRP & spread h@tred are alive
By spreading lies, fake news & hatred they are fuelling communal tension Between Hindu-Muslim & manipulating public opinion for ratings#PahalgamTerroristAttack pic.
— Razia Masood رضــــیہ (@Razia_Masood) April 24, 2025
سوشل میڈیا پر وائرل بھارتی جوڑے کی ویڈیو میں زندہ ہونے کا انکشاف سامنے آگیا۔
زندہ بھارتی جوڑے کی پرانی تصاویر مبینہ طور پر ہلاک افراد کے ساتھ منسوب کی گئیں تھیں۔
تصویر میں دکھائی دیے جانے والے بھارتی جوڑے کی سامنے والی ویڈیو میں لڑکی کو سنا جا سکتا ہے کہ:
’ہم زندہ ہیں، معلوم نہیں کہ ہماری تصاویر کو بھارتی میڈیا پر کیوں چلایا جا رہا ہے۔ ہماری تصاویر کو نیول آفیسر اور اس کی اہلیہ کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں:پہلگام حملہ بھارتی سازش، مودی سرکار جنگ کا بہانہ ڈھونڈ رہی ہے، مشعال ملک
بھارتی جوڑے کا کہنا ہے کہ ’ ان تصاویر کے میڈیا پر چلنے سے ہم اور ہمارے اہلخانہ بہت پریشان ہیں۔ بھارتی عوام تمام بھارتی نیوز چینلز اور اخبارات کو رپورٹ کریں کہ ہماری جعلی تصاویر نہ چلائیں‘۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح یہ جوڑا زندہ نکلا ہے، اسی طرح بہت سے دوسرے لوگ بھی بعد میں زندہ ہو سکتے ہیں۔ یہ سب بھارتی ایجنسی ’را‘ کا ڈراما تھا جو آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا بھارتی میڈیا پہلگام پہلگام حملہ ڈراما فلاپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بھارتی میڈیا پہلگام پہلگام حملہ ڈراما فلاپ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔