بھارت کی طرف سے اٹاری بارڈر بند کیے جانے کے بعد پاکستان نے بھی واہگہ بارڈر بند کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
بھارت کی طرف سے اٹاری بارڈر بند کئے جانے کے بعد پاکستان نے بھی واہگہ سرحد بند کردی ہے جس کے بعد بھارت سے پاکستانی اور یہاں سے بھارتی شہریوں کی اپنے ملک واپسی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
بھارت کی طرف سے اچانک ویزے منسوخ ہونے کی وجہ سے کئی پاکستانی خاندانوں کو واہگہ بارڈر سے واپس لوٹنا پڑا جبکہ انڈیا سے پاکستان میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آنیوالی ایک سکھ فیملی بھی شادی کی تقریبات ادھوری چھوڑ کر واپس لوٹ گئی۔
پاکستان اور بھارت کے درجنوں شہری روزانہ واہگہ /اٹاری بارڈر کے ذریعے ایک دوسرے ملک آتے جاتے ہیں لیکن حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور واہگہ اٹاری بارڈر بند ہونے سے مسافروں کی آمدورفت بند ہوگئی ہے۔
جمعرات کے روز جہاں انڈیا سے 28 پاکستانی واپس لوٹے ہیں وہیں پاکستان میں مقیم 105 بھارتی شہری بھی واپس اپنے ملک لوٹ گئے۔
بھارت نے عام ویزا کے حامل پاکستانیوں کو یکم مئی تک بھارت چھوڑنے کا کہا ہے جبکہ سارک ویزا کے حامل افراد کو 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔
سبی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک ہندوخاندان کو بھی واہگہ بارڈر سے واپس لوٹنا پڑا۔ یہ خاندان اندور مدھیہ پردیش انڈیا جارہا تھا لیکن بھارت کی طرف سے بارڈ بند ہونے کے یہ خاندان انڈیا نہیں جاسکتے۔
پاکستانی ہندو فیملی کے ممبر اکشے کمار نے بتایا ان کی فیملی کے 7 لوگ اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کے لئے جارہے تھے، وہ خوش تھے کہ اپنے خاندان سے مل سکیں گے اور شادی کی خوشیوں میں شریک ہوں گے لیکن اب جب یہاں پہنچے ہیں تو معلوم ہوا انڈیا نے بارڈر بند کردیا ہے،اب رات ڈیرہ صاحب لاہور میں گزارنے کے واپس اپنے گھر لوٹ جائیں گے۔
انڈیا سے پاکستان میں شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے آنیوالی ایک سکھ فیملی بھی واپس لوٹ گئی، سکھ فیملی کے رکن سردار رمیندر سنگھ نے بتایا وہ انڈیا سے دلہا کے ساتھ یہاں پاکستان دلہن بیاہنے آئے تھے۔ شادی ہوگئی لیکن ابھی کئی رسومات باقی تھیں۔
جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ انڈیا نے بارڈر بند کردیا ہے تو وہ واپس جارہے ہیں۔ دلہا بھی چند روز تک واپس چلاجائیگا۔
گھوٹکی سندھ سے تعلق رکھنے والا ایک ہندو خاندان جو نئی دہلی بھارت میں مقیم ہے۔ یہ خاندان واپس پاکستان میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے اور مذہبی رسومات ادا کرنے آیا تھا ۔ تاہم جمعرات کو انہیں بھی بھارتی حکام کی طرف سے واپس انڈیا داخلے کی اجازت نہیں مل سکی۔
ہندوفیملی کی رکن اندرا نے بتایا وہ پانچ لوگ جن میں ان کا کم سن بیٹا اوربیٹی جبکہ انکل اور آنٹی شامل ہیں یہ لوگ دوماہ قبل انڈیا سے واپس پاکستان آئے تھے۔
ان کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہیں جبکہ انڈیا کی طرف سے انہیں نوری ویزا دیا گیا تھا لیکن اب بھارتی حکام کی طرف سے انہیں واپس انڈیا جانے کی اجازت نہیں مل سکی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارت کی طرف سے پاکستان میں اٹاری بارڈر انڈیا سے واپس لوٹ شادی کی سے واپس
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔