سینیٹ میں بھارتی جارحیت کے خلاف متفقہ قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک: سینیٹ نے حالیہ بھارتی جارحیت کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قرارداد پیش کی، جسے ایوان بالا نے مکمل اتفاق رائے سے منظور کر لیا۔
قرارداد کے متن میں واضح کیا گیا کہپاکستان کو پہلگام واقعے سے جوڑنے کے بھارتی الزامات کو مسترد کرتے ہیں، بھارتی حکومت بدنیتی پر مبنی مہم چلا رہی ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بھارت کو دیگر ممالک بشمول پاکستان میں دہشتگردی کے لیے قابل احتساب ٹھہرایا جائے۔
قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پاکستان اپنی کشمیر پالیسی اور حمایت کو جاری رکھے گا۔
فواد خان اور وانی کپور کی آنیوالی فلم کے گانے یوٹیوب سے ہٹا دیے گئے
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہسندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا، یہ معاہدہ اتفاق رائے سے ہی ختم ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے پانی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی لائف لائن ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی واضح کر چکی ہے کہ پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہوگا۔
قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے بھی ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد دشمنوں کو ایک مشترکہ پیغام ہے۔ بھارت ہمیشہ موقع کی تلاش میں رہا ہے کہ پاکستان کو نقصان پہنچائے، لیکن اس کی پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔
فرانس میں طالبعلم کا ساتھیوں پر چاقو سے حملہ، ایک طالب علم ہلاک
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔