وطن کی سلامتی و دفاع کیلئے پوری قوم متحد ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ پہلگام سانحے کو جواز بنا کر بھارت کا پاکستان پر الزامات اور جنگی دھمکیاں دینا نہایت غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع پر پوری قوم متحد ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ایک اسلام دشمن سوچ کا حامل شخص ہے، جسے دنیا گجرات کے قصائی کے نام سے جانتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم، قتل عام اور انسانی حقوق کی پامالی ایک طویل عرصے سے جاری ہے، جسے دنیا دیکھ رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈومکی قبیلے کے معززین اور جیکب آباد یوتھ کی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حالیہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ کے علاقے پہلگام میں ہونے والا حملہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے، جس میں 26 بے گناہ انسان جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے۔ ہم اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ معصوم شہریوں کا قتل کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سانحے کو جواز بنا کر بھارت کی جانب سے پاکستان پر بلا ثبوت الزامات اور جنگی دھمکیاں دینا نہایت غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز اقدام ہے، جو خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ بھارت اب تک اس واقعے کا کوئی ٹھوس ثبوت یا شواہد پیش نہیں کر سکا، جبکہ غیر جانبدار ذرائع بھی بھارتی مؤقف کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے، ہم جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر مودی حکومت نے پاکستان پر حملے کی کوشش کی، تو پوری قوم منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ہم اپنے وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے، یہ ہمارا قومی اور دینی فریضہ ہے۔ علامہ ڈومکی نے کہا کہ اگرچہ ہمیں فارم 47 کے نتیجے میں قائم جعلی حکومت اور ان کے سرپرستوں سے سو اختلافات ہیں، اور ہم عوامی مینڈیٹ کے چوروں اور ان کے سرپرستوں کو تسلیم نہیں کرتے، لیکن جب بات وطن کی سالمیت اور قومی وقار کی ہو، تو ہم سب سے پہلے میدان عمل میں ہوں گے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے کے امن و استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارت کی جنگی جنونیت اور الزام تراشی کا نوٹس لے اور جنوبی ایشیا کو ممکنہ تباہی سے بچانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈومکی نے کہا علامہ مقصود نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔