اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور دفاع کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ترجمان شفقت علی خان نے میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے. بھارتی اقدامات نے دو قومی نظریے کی سچائی پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی حالیہ پالیسیوں کے پیش نظر پاکستان نے بھی جوابی اقدامات کیے ہیں.

واہگہ بارڈر پر ہر قسم کی آمد و رفت بند کر دی گئی ہے. سارک اسکیم کے تحت بھارتی شہریوں کو جاری ویزے معطل کر دیے گئے ہیں.تاہم سکھ یاتری اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گے۔شفقت علی خان نے کہا کہ بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد کم کرکے 30 کر دی گئی ہے. پاکستان کی فضائی حدود بھارتی پروازوں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ان تمام امور پر تفصیلی غور کیا گیا اور پاکستان نے مناسب جوابات دیے ہیں۔ ترجمان نے وزیرِ اعظم کے حالیہ دورہ ترکیہ کو اہم قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ترک قیادت سے مفید بات چیت ہوئی ہے. اسی طرح یو اے ای کے نائب وزیراعظم کے دورہ پاکستان میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ روانڈا کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے دوران متعدد ایم او یوز پر دستخط ہوئے جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغانستان کا اہم دورہ کیا اور ازبک و ایرانی وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان انسداد دہشتگردی پر مشترکہ ورکنگ گروپ کا اجلاس ماسکو میں منعقد ہوا۔ترجمان دفتر خارجہ نے آخر میں یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم