جیسا حملہ ہوا ویسا ہی جواب ہوگا، پاکستان بھارت تنازع مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جیسا حملہ ہوا ویسا ہی جواب ہوگا، پاکستان بھارت تنازع مکمل جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے، دنیا کو جوہری طاقتوں کے درمیان مکمل تصادم کے امکان پر فکر مند ہونا چاہیئے، مکمل حملہ ہوا تو مکمل جنگ ہوگی، پاکستانی فوج ہرطرح کی صورتحال کے لیے تیار ہے۔
برطانوی ٹی وی اسکائی نیوز کو انٹرویو میں وفاقی وزیر خواجہ آصف نے پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کاالزام مسترد کرتے ہوئے حملے کو بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دے دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کو جوہری ہتھیار رکھنے والے دونوں ممالک کے درمیان مکمل جنگ کے امکان کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیئے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ تنازع مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا۔
مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں منگل کو مسلح افراد کی فائرنگ سے 26 سیاح ہلاک ہو گئے تھے جس کا الزام نئی دہلی کی حکومت نے پاکستان پر عائد کیا تھا تاہم خواجہ آصف نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے فائرنگ کے واقعے کو بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ پاکستانی فوج دونوں جانب سے بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سفارتی اقدامات کے درمیان کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
وزیر دفاع کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بھارت کے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا، بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، دونوں ملکوں کے تصادم کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے، جیسا حملہ ہوا ویسا ہی جواب ہوگا، پاک بھارت تنازع مکمل جنگ کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہم بھارت کی کسی بھی جارحیت کا ناپ تول کر جواب دیں گے، اگر مکمل حملہ ہوتا ہے تو مکمل جنگ ہوگی۔
مزیدپڑھیں:پینسل سے بھی پتلا، آئی فون 17 کی نئی ویڈیو لیک ہوگئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے حملہ ہوا کی صورت کسی بھی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔