حکومت کا ملک میں بھارتی دہشت گردی کا معاملہ عالمی فورمز پر اٹھانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
کراچی:
حکومت نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت عالمی فورمز پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس حوالے سے وزارت خارجہ بھارت کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوتوں پر منسلک مربوط کیس تیار کرکے متعلقہ فورمز سے باضابطہ رجوع کرے گی۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد عالمی فورمز کے حکام سے وفود کی سطح پر ملاقاتیں اور رابطے کیے جائیں گے۔
وفاقی حکومت کے اہم ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ پہلگام واقعہ کے بعد مودی حکومت پاکستان پر کسی الزام کو ثابت کرنے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے، اس ناکامی کو چھپانے کے بھارتی میڈیا پر محض پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، اس نام نہاد جھوٹے پہلگام واقعہ کے بعد مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔وفاقی حکومت نے مودی حکومت جھوٹے الزامات کا بھرپور سفارتی جواب دینے کے لیے اپنی حکمت عملی طے کرلی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اس حکمت عملی کے تحت وزارت خارجہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے اور شدت پسند گروپس کی سرپرستی کرنے اور فنڈنگ سمیت دیگر ذرائع سے مدد کرنے کے ثبوت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت تمام عالمی فورمز کو بھیجے گی۔
عالمی فورمز کو باور کرایا جائے گا کہ پاکستان ہر سطح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور خود دہشت گردی کا شکار ہے، پاکستان میں بھارت دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور مودی حکومت کو اس اقدام سے باز رکھے، پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بہتری کے لیے کوئی دبائو قبول نہیں ہوگا، بھارت کو پہلگام واقعہ پر اپنی غلط پالیسی اور فیصلوں کو واپس لینا ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان نے بھارتی الزامات اور نام نہاد و جھوٹے پروپیگنڈے سے دوست ممالک کو آگاہ کردیا ہے اور دوست ممالک نے اس حوالے سے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کا کہا ہے۔
بھارت کو پاکستان کی موثر سفارتی حکمت عملی کے سبب اس محاذ پر بھی ناکامی کا سامنا ہے، وفاقی حکومت بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کے معاملے پر مربوط جوابی کیس تیار کررہی ہے۔
اس حوالے سے ورلڈ بینک، عالمی عدالت انصاف اور عالمی فورمز پر وزیراعظم کی منظوری سے جلد رجوع کیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کے حکام کے مطابق اس کیس میں بھی پاکستان کو کامیابی ملے گی ۔وفاقی حکومت اس صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور مشاورت سے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی یا مزید کوئی فیصلہ کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پہلگام واقعہ عالمی فورمز وفاقی حکومت مودی حکومت میں بھارت حکمت عملی بھارت کے کے بعد
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔