بیانیے کی جنگ میں پاکستان کو سبقت حاصل ہے، بھارت کو بھرپور جواب دیا گیا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ بھارت نے پہلگام واقعے کو بین الاقوامی واقعہ بنانے کی کوشش کی، بھارتی شہری خود بھارت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ بیانیے کی جنگ میں پاکستان کو سبقت حاصل ہے، بھرپور جواب دیا گیا ہے، بھارت نے کوئی بھی ایڈونچر کیا تو بھرپورجواب دیا جائے گا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود کو بھارت کیلئے بند کر دیا گیا،
پہلگام واقعے کی ایف آئی آر سامنے آئی ہے، واقعے کے 10 منٹ بعد ایف آئی آر درج کی گئی، جس سے بھارت کا ایجنڈا بے نقاب ہوگیا ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پانی پاکستان کی لائف لائن ہے، پاکستان بھرپور طریقے سے جواب دے گا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں جعلی مقابلے کے ذریعے لوگوں کو شہید کر رہا ہے، بھارت نے بوکھلاہٹ میں بانڈی پورہ اور اڑی سیکٹر میں لوگوں کو شہید کرنا شروع کر دیا ہے، اڑی سیکٹر میں دو افراد کو شہید کردیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: عطا تارڑ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔