امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ ہڑتال پوری قوم کی جانب سے ہے اور قوم فلسطینیوں سے اظہار محبت کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکا کی مذمّت کرے گی، آج کی ہڑتال امریکا، اسرائیل اور بھارت کی شیطانی تثلیث کے خلاف ہے، پاکستانی قوم فلسطینیوں کی نسل کشی برداشت نہیں کر سکتی۔ جماعت اسلامی پاکستان کی اپیل پر غزہ کے مظلوم فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے، کراچی میں صدر، بولٹن مارکیٹ، جوڑیا بازار سمیت دیگر تجارتی مراکز بند ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کی اپیل پر ملک کے مختلف شہروں میں جزوی ہڑتال دیکھی جارہی ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال شروع ہوگئی ہے اور آج ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال اہل غزہ سے یکجتی کا اظہار ہوگی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہڑتال پوری قوم کی جانب سے ہے اور قوم فلسطینیوں سے اظہار محبت کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکا کی مذمّت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کی ہڑتال امریکا، اسرائیل اور بھارت کی شیطانی تثلیث کے خلاف ہے، پاکستانی قوم فلسطینیوں کی نسل کشی برداشت نہیں کر سکتی۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ یہ ہڑتال مسلم حکمرانوں کے پیغام ہوگا کہ وہ بے حمیتی ترک کریں اور کھل کر غزہ کے مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں کھڑے ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قوم فلسطینیوں جماعت اسلامی فلسطینیوں سے اسرائیل اور نے کہا کہ ملک گیر

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید