Express News:
2026-07-24@10:22:13 GMT

کچھ باتیں عام سی

اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT

آئیے! آج آپ کو رمضان چاچا کی کچھ باتیں بتاتا ہوں۔ تھے بوڑھے، لیکن ہمت اور حوصلہ کڑیل جواں تھا، کام ان کا سبزی بیچنا تھا، رہتے تنہا، چھوٹے سے کچے گھر میں تھے لیکن ارادوں کے کمال پکے تھے۔ یہ ارادہ اور عزم ہی تو تھا کہ کہتے تھے کہ مرتے مرجاؤں گا لیکن کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا منظور نہیں اور ہوا بھی ایسا ہی، حال ہی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔

جب بیمار ہوئے تو سمجھ گئے تھے کہ اب وقت رخصت قریب ہے، تو انھی دنوں اپنے ایک نیک دل پڑوسی کو پیسے سپرد کرتے ہوئے یہ گزارش کی میرے کفن دفن کا انتظام اس رقم سے باآسانی ہوجائے گا اور اگر کچھ بچ جائیں تو قریب کی مسجد میں وضو خانہ زیرِ تعمیر ہے، اس میں ایصالِ ثواب کی نیت سے ملا دینا اور پھر بعد از انتقال، سارے انتظامات بھی باآسانی تکمیل پا گئے اور ایصالِ ثواب کی نیت بھی پوری ہوئی۔

رمضان چاچا جب سبزی بیچنے محلے میں آتے تھے تو اکثر سلام دعا ہوجاتی تھی، صوم صلوٰۃ کے پابند تو تھے ہی، زندگی سے جڑے دیگر معاملات کو بھی احکامِ شریعت کے تابع رکھنے کی ہر دم کوششوں میں مصروف رہتے تھے، ناجائز منافع خوری سے نفرت اور حصول رزق حلال کی کوششوں سے پیار تھا۔

ایک دن احمد کو اُن سے سبزی لیتے دیکھا اور بحث کرتے ہوئے بھی ( احمد میرے کزن عبیر کے بیٹے کا نام ہے، ہم ایک ہی محلے میں رہتے ہیں ) احمد کو چاچا نے بتائے کسی سبزی کے 25 روپے تھے لیکن اس کا اصرار تھا کہ قیمت کم کر کے 20 روپے کردی جائے۔ 

رمضان چاچا اُسے بہت پیار سے سمجھا اور قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اس کی بڑھتی تکرار تمام کوششوں کو بے سود کیے دے رہی تھی، پھر وہ کچھ دیر کو خاموش ہوئے اور احمد سے ایک گلاس پانی مانگا، گرمیوں کے دن تھے، سورج آگ برسا رہا تھا، احمد پانی لینے گیا تو انھوں نے جیب سے ( کئی جگہوں سے پھٹا) رومال نکالا، پسینا پوچھا اور کچھ دیر قریب بنے چبوترے پر بیٹھ گئے۔ 

پھر احمد پانی لے لایا، ٹھیلا چونکہ گھر کے بالکل سامنے تھا شاید اسی لیے، وہ ننگے پاؤں ہی باہر آگیا تھا، رمضان چاچا نے پانی پیا، سبزی تولی اور اسے دے دی۔ (پیسے 20 روپے ہی لیے تھے۔) ’’ سنو احمد … بیٹا چپل پہنے رکھا کرو، گلی میں پتھر اورکانچ وغیرہ پڑے ہوتے ہیں، چبُھ گئے تو تکلیف ہوگی۔‘‘ بس اتنا کہہ کر انھوں نے احمد کے سر پر ہاتھ رکھا اور دھیرے دھیرے ٹھیلا بڑھاتے آگے نکل گئے تھے۔

پھر احمد گھر کے اندر گیا اور نہایت پُرجوش انداز میں اپنے امی، ابو کو بتانے لگا کہ کیسے وہ پورے پانچ روپے بچانے میں کامیاب ہوا تھا۔ امی، ابو کا یہ سننا تھا کہ لگے ہونے اس پر صدقے واری۔ ’’یہ ہوتی ہے ہوشیاری اور چالاکی، آج بچائے گا توکل کام آئیں گے نا، شاباش بیٹا، بس آج سے گھر کے سودے کی خریداری تمہارے ذمے‘‘ پھر جب یہ باتیں ہوگئیں تمام، تو اسی رات وہ لوگ ایک شاندار ہوٹل آئے تھے۔ 

احمد اچھے نمبروں سے پاس ہوا تھا، اسی خوشی میں رات کا کھانا باہرکھانے کا پروگرام بنا تھا،کامیابی کے افق پر ستاروں کی گنتی کا پیچھا کرتے، اُس تھری اسٹار ہوٹل میں، قیمتوں کو بھی چاند چڑھے تھے … تین لوگوں کے کھانے کا بل ہزاروں میں بنا تھا، جسے نہایت آرام سے، بغیرکسی حیل و حجت ادا کردیا گیا تھا۔ (شاندار ہوٹل کے اُس پرُسکون ماحول میں کسی بحث و مباحثے کی گنجائش تھی بھی نہیں) جاتے، جاتے ویٹر کو بھی ’’ ٹپ‘‘ کی مد میں اچھے خاصے پیسے تھما دیے گئے تھے۔

 پتہ نہیں ہمارے یہاں ایسا کیوں ہوتا ہے، جہاں بچت ہوسکتی ہو، وہاں خوب لُٹایا جاتا ہے اور پھر بچت ہی کے نام پرکسی کی ’’حق تلفی ‘‘ کو نہایت آرام سے چالاکی اور ہوشیاری کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بات صرف رمضان چاچا سے قیمت پر کی جانے والی تکرار اور مہنگے ہوٹل میں کھانا کھانے کی نہیں، پورے ہفتے کے مختلف دنوں میں لگنے والے جا بجا بچت بازاروں میں دیکھیں نہ کہ کیا ہو رہا ہے، ان مارکیٹوں کا احوال بھی ملاحظہ فرما لیجیے۔

یہ بازار اشیاء خورونوش کی کم قیمتوں کے حوالے سے کا فی شہرت رکھتے ہیں۔ پھل، سبزی، دالیں، چاول، سرف، صابن، کپڑے، برتن، غرضیکہ روزمرہ کی زندگی سے جڑی تقریبا تمام اشیا ئے ضروریہ ان بازاروں میں موجود ہوتی ہیں، سبزی اور فروٹ کے ٹھیلے تو جا بجا لگے ہوتے ہیں، اب ظاہر ہے جیسا مال ویسی قیمت، اس لیے ان ٹھیلوں پر سجے پھل، سبزیاں اور دیگر اشیاء معیاری نقطہ نگاہ سے مختلف درجات کی حامل ہوتی ہیں۔

اب ہماری دکھوں کے مارے اور انتہائی بے چارے غریب عوام،کیا کرتے ہیں، ذرا وہ بھی سُن لیجیے، ان ٹھیلوں پر جایا جاتا ہے، سب سے پہلے قیمت پوچھی جاتی ہے ( حالانکہ بیچنے والا چیخ ، چیخ کر پیسے بتا رہا ہوتا ہے) پھر اصرار قیمت کو مزید کم کرنے پرکیا جاتا ہے اور اگر پیسے کم ہوجائیں تو پھولے نہیں سمایا جاتا، پھر جناب کیا ہوتا ہے کہ ٹھیلے والے سے مانگی جاتی ہے، ایک عدد تھیلی اور پھر چھانٹی کا مصروف ترین عمل شروع ہو جاتا ہے۔

خوب اچھے اچھے بڑے بڑے آلو، پیاز، ٹماٹر، سیب اور ناشپاتیاں چھانٹ لی جاتی ہیں اور باقی ذرا نسبتا کم معیاری اشیاء کس کے لیے چھوڑ دی جاتی ہیں؟ یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی، بہرحال پھر رات گئے تک ٹھیلوں پر بچ جانے والی چیزوں کو اونے، پونے داموں فروخت کردیا جاتا ہے۔

کیونکہ بہت سی ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جنھیں اگر ٹھیلے والے گھر واپس لے جائیں تو اگلے دن تک خراب ہوجانے کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے تو بہرحال، بازاروں میں تو یہ سب ہو رہا ہوتا ہے، لیکن زندگی کے دیگر معاملات میں بھی بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو حق تلفی کے زمرے میں آتا ہے۔

اب بات یہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال میں ہونا کیا چاہیے؟ تو جناب ہونا تو یہ چاہیے کہ سب سے پہلے یہ دیکھا جائے کہ خرید و فروخت کے علاوہ اور ایسے کونسے معاملات ہیں جہاں ہم سے حق تلفی جیسا گناہ سرزد ہو رہا ہے اور پھر ایسے گناہوں سے خود کو بچا لیا جائے، رمضان چاچا جیسے ایماندار لوگوں سے قیمتوں کی کمی پر بحث نہ ہو تو اچھا ہے، بازاروں میں خراب سامان ہر گز نہیں لیا جائے، لیکن جب قیمتیں اگرکافی حد تک کم ہوں، تو پھر معیار پر اس حد تک سمجھوتا کہ آلو، سیب ، ٹماٹر اورکینو چھوٹے، بڑے، درمیانے سب قبول کر لیے جائیں، تو اس میں کوئی بُری بات نہیں۔ 

ایسا نہیں کہ قیمتوں پر بحث و تکرار ہونی نہیں چاہیے، ضرور ہونی چاہیے، لیکن اگر حق تلفی سے جڑے مسئلے کو پیش نظر رکھ کر یہ کام ہو، تو پھر کیا ہی خوب ہو۔ خرید و ٖفروخت کے معاملات میں جہاں خریداروں پر ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں، وہیں فروخت کنندگان بھی بری الذمہ نہیں۔ بے ایمانی، ناجائز منافع خوری، جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی سب بدترین عمل ہیں، ان سے اجتناب لازمی ہے۔

آئیے! ایک ایسے نظام کی تشکیل میں اپنا اپنا کردار ادا کریں کہ جہا ں نہ صرف خریدنے اور بیچنے، بلکہ زندگی سے جڑا ہر معاملہ احکام خداوندی اور شرعی اصولوں کے عین مطابق ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہوتی ہیں اور پھر ہوتا ہے جاتا ہے حق تلفی

پڑھیں:

خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟

پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف خارجہ محاذ پر سفارتی کامیابیوں کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ملک کے اندر سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی کے بحران گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے۔ اگر گھر کے اندر بے چینی، عدم استحکام اور عوامی بے اعتمادی بڑھ جائے تو دنیا میں حاصل ہونے والی سفارتی کامیابیاں بھی دیرپا ثابت نہیں ہوتیں۔
بین الاقوامی تعلقات میں ایک معروف اصول ہے کہ “All foreign policy begins at home یعنی خارجہ پالیسی کی بنیاد مضبوط داخلی استحکام پر ہوتی ہے۔ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ، محروم یا نظرانداز محسوس کریں تو بیرونی دنیا میں پاکستان کا مقف بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔بلوچستان اس وقت پاکستان کی سلامتی اور معیشت کا سب سے اہم خطہ ہے۔ سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک، معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک منصوبے اسی صوبے سے وابستہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ یہی صوبہ بدامنی، سیاسی بے اعتمادی اور احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا میں دہشت گردی ہو رہی ہے جبکہ آزاد کشمیر میں حالیہ سیاسی کشیدگی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ تمام مسائل محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے ہیں جن کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی مکالمے، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے۔
اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والے حالات کے پیچھے بھارت کا کردار موجود ہے۔ اس امکان کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف ریاست کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار ہمیشہ بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟
اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے پاس مضبوط انٹیلی جنس ادارے، دفاعی صلاحیت اور قومی سلامتی کا پورا نظام موجود ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں اصل مسئلہ سیاسی جواز کا ہے۔ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی اہمیت کم ہو رہی ہے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔ نوجوان نسل میں احساسِ محرومی کا بڑھنا کسی بھی ملک کے لیے خطرناک رجحان ہے۔ پاکستان کو ایسی صورتحال سے ہر قیمت پر بچنا ہوگا۔
آزاد کشمیر کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ یہ محض ایک انتظامی یا علاقائی معاملہ نہیں بلکہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ایک حساس پہلو ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے عوام میں بے چینی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات مقبوضہ کشمیر تک بھی پہنچتے ہیں اور پاکستان کے اصولی مقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام کی آواز کو سننا اور سیاسی مسائل کا آئینی و جمہوری حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالف فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے گھر کو منظم، مضبوط اور منصفانہ بنا لیں تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہو جائیں گی۔
ریاست کی طاقت صرف اس کے ہتھیاروں، اداروں یا سفارتی تعلقات سے نہیں بلکہ اپنے عوام کے اعتماد سے بنتی ہے۔ جب عوام اور ریاست ایک صفحے پر ہوں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ لیکن اگر داخلی تقسیم، سیاسی کشیدگی اور احساسِ محرومی بڑھتا رہا تو بیرونی کامیابیاں بھی وقتی ثابت ہوں گی۔
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ہے جس میں خارجہ کامیابیوں کے ساتھ ساتھ داخلی استحکام، آئینی بالادستی، بہتر حکمرانی، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔ کیونکہ مضبوط پاکستان کی بنیاد اسلام آباد کے سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا، سندھ، پنجاب، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں میں رکھی جائے گی۔
پاکستان کو اپنی علاقائی خارجہ پالیسی کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ خصوصا افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدہ تعلقات کے نتیجے میں ہونے والے جانی، معاشی اور سفارتی نقصانات پر سنجیدہ غور ہونا چاہیے۔ گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، مہاجرین کے مسائل اور سرحدی بندشوں نے دونوں ممالک کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت تقریبا پانچ سے چھ ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، مگر کشیدہ تعلقات کے باعث اس میں نمایاں کمی آئی جس کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، برآمدات اور سرحدی علاقوں کے کاروبار پر پڑا۔ یہ سوال اہم ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت ایسے نقصانات کی متحمل ہو سکتی ہے؟ کیا ہمسایہ ممالک کے ساتھ مستقل کشیدگی قومی مفاد میں ہے یا اس سے نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوتا ہے؟ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی علاقائی پالیسیوں پر ازسرِنو غور کرے۔ مضبوط خارجہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ اقتصادی مفادات، علاقائی تعاون اور پائیدار امن کو بھی ترجیح دے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف