پہلگام حملہ، فواد چوہدری نے پاکستان کی طرف سے نیوٹرل تحقیقات کی آفر کی وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی) سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چو ہدری نے کہا ہے کہ پہلگا م حملے مقامی لوگ ہی کر سکتے ہیں جن کو وہاں کے راستوں سے واقفیت ہے، بھارت میں ہونے والی دہشتگردی پر پاکستان ہمیشہ ہی نیوٹرل تحقیقات کی آفر کرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے کیونکہ پاکستان ان معاملات میں ملوث نہیں۔
سابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ہونے والی دہشتگردی پر پاکستان ہمیشہ ہی نیوٹرل تحقیقات کی آفر کرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے کیونکہ پاکستان ان معاملات میں ملوث نہیں ۔انہوں نے کہا کہ پہلگا م جیسے حملے مقامی لوگ ہی کر سکتے ہیں جن کو جنگلوں کا راستہ معلوم ہو۔
حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو سعودی سربراہ محمد بن سلمان سمیت دیگر ممالک کے سربراہان سے بات کرنی چاہیے تھی۔
پاکستان کا تجارتی خسارہ کم کرنے کیلئے امریکی خام تیل درآمد کرنے پر غور
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔