ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کا پاکستان کرپٹو کونسل کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل کی پاکستان کرپٹو کونسل کے ساتھ شراکت کا معاہدہ طے پا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ورلڈ لبرٹی فنانشل امریکی صدر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ڈی سینٹرلائزڈ فنانس پلیٹ فارم ہے۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل، پاکستان کرپٹو کونسل معاہدے کے ساتھ اشتراک سے پاکستان میں بلاک چین کی جدت کو تیز تر بنانے، پائیدار کوائن کے استعمال اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس کو فروغ دینے میں مدد فراہم کرے گی۔
اشتراک کی دستاویز پر پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کی ٹیم نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔
اجلاس میں پاکستان کے وزیر خزانہ، اسٹیٹ بینک کے گورنر، ایس ای سی پی کے چیئرمین اور آئی ٹی کے وفاقی سیکرٹری بھی شریک تھے۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد میں زیکری فولک مین، زیکری وٹکوف (جو مشہور کاروباری اسٹیو وٹکوف کے بیٹے اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ہیں) اور چیز ہیرو شامل تھے۔
وفد نے پاکستان کے وزیراعظم، آرمی چیف، ڈپٹی وزیراعظم، وزیر اطلاعات اور وزیر دفاع سے ملاقاتیں کیں اور شراکت داری کو باضابطہ شکل دی۔
دونوں کے درمیان شراکت داری پاکستان کے ڈیجیٹل فنانس کی دنیا میں قائدانہ کردار کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ، ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیرن ٹرمپ کی حمایت حاصل ہے۔
صدر ٹرمپ نے خود بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس/ٹوئٹر پر ورلڈ لبرٹی پلیٹ فارم کی حمایت کی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر 2024 میں اپنے ایک ٹویٹ میں ورلڈ لبرٹی پلیٹ فارم کے آغاز کو "تاریخی لمحہ" قرار دیا تھا۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل کا مقصد بلاک چین کے ذریعے عالمی مالیاتی نظام میں انقلاب لانا ہے، پاکستان کی حکومت نے جدت کو اپنانے میں پیش قدمی دکھائی ہے۔
پاکستان آنے والے دنوں میں تیزی سے ترقی کرنے والی کرپٹو مارکیٹوں میں سے ایک کے طور پر مزید ابھرے گا۔
ورلڈ لبرٹی فنانشل اور پاکستان کرپٹو کونسل کے باہمی اشتراک میں بلاک چین مالیاتی مصنوعات کی جانچ کے لیے ریگولیٹری سینڈباکس کا آغاز شامل ہے۔
اشتراک کے تحت ڈی فائی پروٹوکولز کی ذمہ دارانہ ترقی و ترویج کو فروغ دیا جائے گا، حقیقی دنیا کے اثاثوں جیسے رئیل اسٹیٹ اور اجناس کی ٹوکنائزیشن پر کام کیا جائے گا، رقوم کی ترسیل اور تجارت کے لیے اسٹیبل کوائنز کا استعمال بڑھایا جائے گا۔
بلاک چین انفراسٹرکچر اور عالمی قوانین پر مشاورتی خدمات فراہم کی جائیں گی، پاکستان کے نوجوان اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت ڈیجٹل پیش رفت کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
اس وقت ملک کی 64 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے، پاکستان دنیا کے بڑے کرپٹو صارف ممالک میں شامل ہے، ملک میں سالانہ تقریباً 300 ارب ڈالر کی کرپٹو لین دین ہو رہی ہے۔
ملک میں تقریباً 2.
اشتراک کی دستاویز پر دستخطوں کے موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ "پاکستان کے نوجوان اور ٹیکنالوجی سیکٹر ہماری سب سے بڑی طاقت ہیں۔ ایسی شراکت داریاں سرمایہ کاری، جدت اور بلاک چین معیشت میں عالمی قیادت کے نئے مواقع فراہم کریں گی۔"
پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کہا کہ "ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ ہمارا تعاون صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک حکمت عملی ہے، جس کا مقصد ہماری نوجوان آبادی کو بااختیار بنانا اور پاکستان کو عالمی مالیاتی مستقبل سے جوڑنا ہے۔"
ورلڈ لبرٹی فنانشل کی قیادت نے کہا کہ "پاکستان کی توانائی، وژن اور صلاحیت اسے دنیا میں ڈی سینٹرلائزڈ فنانس کے مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک بہترین مقام بناتے ہیں"۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کرپٹو کونسل کے ورلڈ لبرٹی فنانشل ٹرمپ کی حمایت پاکستان کے ڈونلڈ ٹرمپ پلیٹ فارم بلاک چین کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔