تھائی لینڈ اور کمبوڈیا فوری جنگ بندی کے خواہاں ہیں، صورتحال نے پاک بھارت تنازع یاد دلادیا، ٹرمپ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 July, 2025 سب نیوز

واشنگٹن(آئی پی ایس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ کے دوران پاک بھارت جنگ بندی پھر یاد آگئی۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹرتھ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’میں نے ابھی کمبوڈیا کے وزیراعظم سے تھائی لینڈ کے ساتھ جنگ روکنے کے حوالے سے بات کی ہے اب میں تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم کو فون کر رہا ہوں تاکہ اسی طرح جنگ بندی اور اس جاری جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کر سکوں‘۔

انہوں نے کہاکہ ’اتفاق سے اس وقت ہم دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں، لیکن ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اگر وہ آپس میں لڑ رہے ہیں تو ہم کسی بھی ملک کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کریں گے، اور میں نے انہیں یہ بات کھل کر بتا دی ہے‘۔

صدر ٹرمپ نے کہاکہ ’تھائی لینڈ کے ساتھ فون کال چند لمحوں میں کی جا رہی ہے، کمبوڈیا کے ساتھ بات مکمل ہو چکی ہے، لیکن جیسے ہی تھائی لینڈ کی طرف سے مؤقف سامنے آتا ہے، جنگ بندی اور لڑائی روکنے کے لیے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک پیچیدہ صورتحال کو سادہ بنانے کی کوشش کر رہا ہوں، اس جنگ میں بہت سے لوگ مارے جا رہے ہیں، اور اس صورتحال نے مجھے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تنازع کی یاد دلادی ہے، جسے بالآخر کامیابی سے ختم کرایا گیا تھا‘۔

بعدازاں صدر ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ ’میں نے ابھی تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم سے بات کی ہے، اور یہ گفتگو بہت مثبت رہی تھائی لینڈ، کمبوڈیا کی طرح فوری جنگ بندی اور امن کا خواہاں ہے، اب میں یہ پیغام کمبوڈیا کے وزیراعظم تک واپس پہنچانے جا رہا ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’فریقین سے بات چیت کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جنگ بندی، امن اور خوشحالی ایک قدرتی راستہ بنتا جا رہا ہے، جلد ہی سب کچھ واضح ہو جائے گا‘۔

امریکی صدر نے ایک اور پوسٹ میں بتایا کہ ’میں نے ابھی کمبوڈیا کے وزیراعظم سے ایک بہت اچھی فون کال کی ہے، اور انہیں تھائی لینڈ اور اس کے قائم مقام وزیراعظم کے ساتھ اپنی بات چیت سے آگاہ کیا، دونوں فریق فوری جنگ بندی اور امن کے خواہاں ہیں، وہ امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کی بحالی کے بھی خواہشمند ہیں، مگر ہمارا مؤقف ہے کہ جب تک لڑائی بند نہ ہو، یہ اقدام مناسب نہیں ہوگا‘۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’انہوں نے فوری ملاقات اور جلد از جلد جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے اور آخرکار مکمل امن کی طرف بڑھنے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے، دونوں ممالک کے ساتھ معاملات طے کرنا میرے لیے باعثِ اعزاز رہا، ان کی تاریخ اور ثقافت نہایت قدیم اور شاندار ہے، امید ہے کہ وہ آئندہ برسوں میں ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں گے‘۔

امریکی صدر نے کہاکہ ’جب سب کچھ ختم ہو جائے گا، اور امن قائم ہو جائے گا، تو مجھے دونوں ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدے مکمل کرنے کی خوشی ہو گی‘۔

تنازع کی وجہ کیا ہے؟
واضح رہے کہ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ سرحدی حدود اور پریاہ ویہیار مندر ہے، جو ایک قدیم ہندو مندر ہے اور دونوں ممالک کی سرحد کے قریب واقع ہے، یہ مندر کمبوڈیا کے علاقے میں واقع ہے، مگر تھائی لینڈ اس کے آس پاس کی زمین پر دعویٰ کرتا ہے۔
1962 میں عالمی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) نے فیصلہ دیاتھا کہ مندر کمبوڈیا کا حصہ ہے، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان مندر کے گرد کچھ زمینوں کی ملکیت پر اختلاف برقرار رہا۔
سرحدی تنازع کی ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ فرانسیسی نوآبادیاتی دور کے بعد بننے والے نقشے اور معاہدے سرحدوں کو مکمل وضاحت کے ساتھ طے نہیں کر سکے، نتیجتاً دونوں ممالک مختلف نقشوں کی بنیاد پر اپنی حدود کا دعویٰ کرتے ہیں۔
2008 سے 2011 کے درمیان پریاہ ویہیار مندر کے آس پاس کئی بار تھائی اور کمبوڈیائی افواج کے درمیان جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں جانی نقصان بھی ہوا، دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں، بعض اوقات اندرونی سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی اس تنازع کو ہوا دی گئی ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
2011 میں کمبوڈیا نے ایک بار پھر عالمی عدالت سے رجوع کیا تاکہ یہ وضاحت کی جا سکے کہ 1962 کے فیصلے میں صرف مندر شامل تھا یا اس کے گرد و نواح کی زمینیں بھی، عدالت نے بعد میں فیصلہ دیا کہ مندر کے آس پاس کا علاقہ بھی کمبوڈیا کا حصہ ہے، لیکن تھائی لینڈ نے اس فیصلے کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کیا۔
یہ تنازع مکمل جنگ میں تو تبدیل نہیں ہوا، مگر وقتاً فوقتاً کشیدگی، سفارتی بحران اور فوجی تناؤ دیکھنے کو ملا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی 28 مئی 2025 کو ایک سرحدی جھڑپ میں کمبوڈیا کے سپاہی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی،
23 جولائی کو بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک تھائی سپاہی زخمی ہوا اور اپنی ٹانگ گنوا بیٹھا، جس کے بعد دونوں ممالک نے جنگی کارروائیاں شروع کردیں، کمبوڈیا نے بی ایم-21 راکٹ لانچر استعمال کیے جبکہ تھائی لینڈ نے ایف 16 طیاروں سے فضائی حملے کیے، لڑائی کے نتیجے دونوں جانب سے 35 سے زائد فوجی اور شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کی زائرین کیلئے خصوصی پروازوں کے انتظامات کی ہدایت اسرائیلی فورسز کا انسانی ہمدردی مشن پر وار، امدادی کشتی حنظلہ پر قبضہ چینی کے ایکسپورٹرز اور ڈیلرز کیخلاف تحقیقات شروع، کئی مل مالکان و ڈیلرز کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا حکومت چلانے کیلئے آپ کے مشوروں کی ضرورت نہیں، گورنر پنجاب کے خط پر عظمی بخاری کا ردعمل بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے ترسیلات زر کی سہولت اسکیم جاری رکھنے کا فیصلہ وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی کے درمیان رابطہ، غزہ میں جاری اسرائیلی بربریت پر اظہار تشویش ڈونلڈ ٹرمپ تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی جنگ رکوانے کی کوششوں میں لگ گئے TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا فوری جنگ بندی

پڑھیں:

حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا

دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔

سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔

دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔

ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی

حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔

پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان

وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ 
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا