ممبئی کے علاقے باندرا میں واقع شاہ رخ خان کا مشہور زمانہ محل ’’منت‘‘ آج کل غیر معمولی خاموشی کی لپیٹ میں ہے۔ وجہ کچھ اور نہیں بلکہ خود کنگ خان کی عارضی رخصتی ہے۔

شاہ رخ خان اپنے گھر کی دو سالہ تزئین و آرائش کے سبب اپنی فیملی کے ساتھ پالی ہل کے ایک پرتعیش اپارٹمنٹ میں منتقل ہوچکے ہیں۔ لیکن ان کی یہ نقل مکانی منت کے باہر موجود دکانداروں کے لیے کسی آندھی سے کم ثابت نہیں ہوئی۔

منت، جو کبھی مداحوں کا میلہ لگا رہتا تھا اور جہاں ہر لمحہ سیلفیز کی جھڑی لگی رہتی تھی، اب سنسان نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں منت کے باہر بیٹھے آئس کریم فروش اور دیگر چھوٹے دکاندار اپنے دکھ کا اظہار کرتے نظر آئے۔ ایک آئس کریم فروش نے کہا، ’’بہت فرق پڑا ہے۔ اب شاہ رخ یہاں رہتے بھی نہیں اور جب سے لوگوں کو یہ پتہ چلا ہے، عوام آنا بھی کم ہوگئے ہیں۔‘‘

A post common by Instant Bollywood (@instantbollywood)

ایک اور دکاندار نے کہا ’’پہلے لوگ آتے تھے، ٹھہرتے تھے، منت کے باہر گھنٹوں بیتاتے تھے۔ اب جیسے ہی انہیں پتہ چلتا ہے کہ شاہ رخ یہاں نہیں رہتے، وہ فوراً رکشہ یا ٹیکسی گھما کر واپس چلے جاتے ہیں۔‘‘

دکانداروں کےلیے یہ تبدیلی کسی صدمے سے کم نہیں۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ ڈالا، ’’شاہ رخ ہیں تو منت ہے، نہیں تو یہ کچھ بھی نہیں!‘‘ اس سادہ مگر گہرے جملے نے نہ صرف شاہ رخ خان کی مقبولیت کا اندازہ دے دیا بلکہ یہ بھی ظاہر کر دیا کہ کیسے ایک ستارے کی موجودگی پورے علاقے کی معیشت کو جلا بخشتی ہے۔

شاہ رخ خان، گوری خان اور ان کے بچے آریان، سہانا اور ابراہیم اب پالی ہل کے ایک لگژری اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں۔ اداکاری کے میدان میں شاہ رخ خان اپنی بیٹی سہانا خان کے ساتھ فلم ’’کنگ‘‘ میں نظر آئیں گے۔ لیکن ابھی تو ’’منت‘‘ کے باہر بیٹھے دکانداروں کی دعا ہے کہ کاش ’کنگ‘ جلد واپس آجائیں تاکہ ان کی دکانیں پھر سے رونق سے بھرجائیں۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: شاہ رخ خان کے باہر

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف