انوشکا شرما اور ویرات کوہلی نے بھارت کیوں چھوڑا؟ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
بالی ووڈ اور کرکٹ کی سب سے مشہور جوڑی انوشکا شرما اور ویرات کوہلی کے لندن منتقل ہون کی اصل وجہ آخرکار سامنے آگئی ہے۔ یہ کوئی معمولی پیشہ ورانہ فیصلہ نہیں، بلکہ ایک ایسی خواہش ہے جو ہر مشہور شخصیت کے دل میں ہوتی ہے مگر بول نہیں پاتا ’’عام زندگی‘‘ کی خواہش۔
یہ انکشاف اداکارہ مادھوری ڈکشٹ کے شوہر ڈاکٹر سری رام نینے نے اپنے ایک پوڈکاسٹ میں انوشکا سے ہونے والی ایک ذاتی گفتگو کا احوال بتاتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر سری رام کا کہنا تھا کہ انوشکا اور ویرات نے بھارت میں اپنی شہرت اور مسلسل عوامی توجہ سے تنگ آ کر یہ قدم اٹھایا۔ ’’وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے ایک عام ماحول میں پرورش پائیں، جہاں ہر چھوٹی حرکت پر کیمروں کا فلش نہ چمکے‘‘۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں رہتے ہوئے یہ جوڑا اپنی نجی زندگی کے معمول ترین لمحات سے بھی لطف اندوز نہیں ہو پاتا تھا۔ ’’باہر کھانے جانا ہو، پارک میں سیر کرنا ہو یا بچوں کے ساتھ وقت گزارنا، ہر جگہ انہیں مداحوں اور میڈیا کا ایک ہجوم گھیر لیتا تھا‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ انوشکا اور ویرات نے لندن کو اپنا مستقل گھر بنانے کا فیصلہ کیا، جہاں وہ زیادہ پرائیویسی کے ساتھ رہ سکیں۔
یہ جوڑا 2013 میں ایک کمرشل شوٹ کے دوران ملا تھا اور 2017 میں انہوں نے ایک پرائیویٹ تقریب میں شادی کی۔ ان کی بیٹی وامیکا 2021 میں پیدا ہوئی، جبکہ فروری 2024 میں ان کے بیٹے اکائے کی پیدائش ہوئی۔ ڈاکٹر نینے کے مطابق، ’’یہ فیصلہ جذباتی ضرور تھا، لیکن اس کے پیچھے ایک واضح سوچ تھی، اپنے بچوں کو ایک متوازن اور خوشگوار زندگی دینا‘‘۔
پیشہ ورانہ طور پر ویرات کوہلی اب بھی فعال ہیں اور آئی پی ایل 2024 میں رائل چیلنجرز بینگلور کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے اب تک 9 میچز میں 392 رنز بنائے ہیں، جس میں 5 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ تاہم، کھیل کے میدان سے باہر وہ اپنی فیملی کے ساتھ ایک پر سکون زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ لندن ان کا نیا گھر بن گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور ویرات
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔