راولپنڈی سے لاہور تک بلٹ ٹرین منصوبہ پنجاب میں ترقی کا سنگ میل ہوگا، اراکین پارلیمنٹ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
لاہور:
قومی اور پنجاب اسمبلی کے اراکین نے صوبائی حکومت کے راولپنڈی سے لاہور تک بین الاقوامی معیار کے بلٹ ٹرین منصوبے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ پنجاب کی ترقی کا سنگ میل ثابت ہوگا۔
ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ راولپنڈی سے لاہور تک بین الاقوامی معیار کی بلٹ ٹرین منصوبے کا آغاز کیا جا رہا ہے، جس کے تحت راولپنڈی سے لاہور تک بلٹ ٹرین کا منصوبہ پنجاب کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین نے کہا کہ پنجاب کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، نواز شریف کا ویژن تھا کہ پاکستان میں بلٹ ٹرین منصوبے کا آغاز کیا جائے اس بارے میں سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے اس عظیم منصوبے کی تکمیل کے لیے ممکنہ طور پر اپنا ہوم ورک مکمل کرلیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جلد اس منصوبے کا سنگ بنیاد وزیر اعظم شہباز شریف رکھیں گے، یہ منصوبہ ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
سابق سنیٹر چوہدری تنویر خان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) اقتدار میں آتی ہے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوجاتا ہے۔
ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا جدت کی طرف گامزن ہے۔
مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی نزہت صادق کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے پنجاب کو ترقی یافتہ صوبہ بنا دیا ہے، سنیٹر ناصر محمود بٹ کا کہنا تھا کہ دنیا ٹرانسپورٹ کے جدید نظام سے ترقی کرتی ہے، بلٹ ٹرین منصوبے اس کی ایک روشن مثال ہے۔
رکن قومی اسمبلی بیرسٹر دانیال چوہدری کا کہنا تھا کہ بلٹ ٹرین سے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ عوام کو معیاری ٹرانسپورٹ کی سہولت میسر ہوگی۔
اسی طرح رکن صوبائی اسمبلی ملک افتخار کا کہنا تھا کہ راولپنڈی سے لاہور تک بلٹ ٹرین منصوبہ عوام کی تقدیر کو بدل دے گا۔
مسلم لیگ(ن) کے سینئیر رہنما حاجی پرویز نے کہا کہ بلٹ ٹرین کے منصوبے کی تکمیل سے فیول اور وقت کی بچت ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بلٹ ٹرین منصوبے کا کہنا تھا کہ کی ترقی
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔