وفاق میں ہم پیپلزپارٹی کے اتحادی ہیں چاہے انہوں نے وزارت لی ہو یا نہ ہو، فاروق ستار
10، 15ارب سے کراچی کے لیے کچھ نہیں ہوتا، وفاق کو حصہ بڑھانا چاہیے ، صوبائی وزیر

سندھ کے سینئر وزیر اور پیپلز پارٹی کے رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل میں نہر منصوبے کے خاتمے کا فیصلہ نہیں ہوا تو حکومت سے علیحدہ ہوجائیں گے ۔کراچی میں ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات کے بعد گفتگو میں ناصر حسین شاہ نے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے درمیان ہونے والا فیصلہ حتمی ہے ۔ناصر شاہ نے کہا کہ کینالز کا مسئلہ بہت حساس معاملہ ہے ، کینال کے مسئلے پر ایم کیو ایم پاکستان نے ہمیں بھرپور سپورٹ کیا۔رہنما ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار نے کہا کہ آج ناصر شاہ کی سربراہی میں پیپلز پارٹی کا ایک وفد ہمارے پاس آیا ہے ، پیپلز پارٹی وفد کے ساتھ بہت مفید گفتگو ہوئی، ماضی میں بھی پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے حق میں دستبردار ہوئے ، ایک ساتھ مل بیٹھنے سے سندھ کے عوام میں اچھا تاثر جاتا ہے ۔فاروق ستار نے کہا کہ وفاق میں ہم ان کے اتحادی ہیں چاہے انہوں نے وزارت لی ہو یا نہ ہو۔ ہمیں انتخابی ملاقاتوں سے ہٹ کر بھی عوامی مسائل کے لیے ساتھ بیٹھنا چاہیے ، اگر یہ رابطے نہیں ہونگے تو ہمارا ایک دوسرے کے لیے سخت موقف ہی رہے گا۔ناصر شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بہتری کی بات کی ہے ، ترقیاتی کام ہوا ہے اور ہو بھی رہا ہے ، ایم کیو ایم نے اچھی تجاویز دی ہیں ان پر کام کریں گے ۔انکا کہنا تھا کہ سینیٹ کی نشست حاصل کرنے کے لیے ہمارے نمبرز پورے ہیں، ہم یہاں ایک اچھا تاثر لے کر آئے ہیں، کراچی میں بہتری کے لیے بہت زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے ۔صوبائی وزیر نے کہا کہ مصطفی کمال کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کہا کہ کراچی کو سب سے زیادہ پیسے آصف زرداری کے دور میں ملے ، 2013سے 2022تک سندھ کے لیے سب سے کم اسکیمیں رکھی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بار وفاقی حکومت نے سندھ کا حصہ 3فیصد سے بڑھا کر کم سے کم دس فیصد کر دیا ہے ۔ 10، 15 ارب سے کراچی کے لیے کچھ نہیں ہوتا، وفاق کو کراچی کا حصہ بڑھانا چاہیے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری