اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )ٹیکس کی شرح بڑھانے کے باوجود فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کی مد میں 169ارب روپے جمع کئے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ وصولی 136 ارب روپے تھی۔
 نجی ٹی وی جیونیوزکے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس شرحوں میں اضافے کے بعد جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی رقم میں 50 فیصد اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن اب تک مالی سال 2024-25کے پہلے نو ماہ میں ٹیکس وصولی گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 24فیصد بڑھی ہے۔
غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر دفعہ 236C کے تحت ٹیکس کی شرح ٹیکس سال 2021 میں فائلرز کے لئے ایک فیصد اور نان فائلرز کے لئے 2فیصد تھی، جسے ٹیکس سال 2023 میں بڑھا کر فائلرز کے لئے 2 فیصد اور نان فائلرز کے لئے 4 فیصد کر دیا گیا۔ یہ ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کی شرح ٹیکس سال2024میں بڑھا کر فائلرز کے لئے 3فیصد اور نان فائلرز کے لئے 6 فیصد کر دی گئی۔ 
غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر ایڈوانس ٹیکس ،ٹیکس سال 2021میں فائلرز کے لئے ایک فیصد اور نان فائلرز کے لئے 2 فیصد تھا، جسے 2023 میں بڑھا کر فائلرز کے لئے 2 فیصد اور نان فائلرز کے لئے 7.

5 فیصد کر دیا گیا۔ اب 2024-25کے آخری بجٹ میں یہ شرح بڑھا کر فائلرز کے لئے 3فیصد اور نان فائلرز کے لیے 10.5فیصد کر دی گئی ہے۔ 
ٹیکس شرحوں میں اس زبردست اضافے کے باوجود جائیداد کے شعبے نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس (ڈبلیو ایچ ٹی) کی مد میں169ارب روپے ادا کئے ہیں۔جائیداد کے شعبے کی ٹیکسوں کی صورت میں شراکت گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 136ارب روپے تھی، جو موجودہ مالی سال میں اب تک 24.3 فیصد کے اضافے کیساتھ سامنے آئی ہے تاہم حکومت نے جائیداد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) ختم کرنے کے لئے ایک سمری پیش کی ہے لیکن اس کی قومی خزانے میں شراکت رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں 2ارب روپے سے کم رہی ہے۔ 
حکومت کے اعلیٰ عہدیداران نے دی نیوز کو اعتماد میں لے کر بتایا کہ وفاقی کابینہ نے تاحال فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) پر اپنی منظوری نہیں دی ہے اور اسے بل کی شکل میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔اگرچہ حکومت کی خواہش تھی کہ ایف ای ڈی کو ختم کرنے کے لئے ایک آرڈیننس جاری کیا جائے لیکن آئی ایم ایف اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ فائلر کے لئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح 3فیصد، تاخیر سے فائل کرنے والوں کے لئے 5 فیصد اور نان فائلرز کے لئے 7فیصد تھی۔ ذرائع نے کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 236سی جائیداد کی فروخت پر ایڈوانس ٹیکس سے متعلق ہے اور اس میں فائلرز کے لئے 3فیصد اور نان فائلرز کے لئے 6فیصد ٹیکس کی شرح ہے۔ 
دفعہ 236سی کے تحت ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں 84ارب روپے جمع کئے ہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 65ارب روپے تھی۔ دفعہ 236کے تحت ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں85ارب روپے جمع کئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ رقم 71ارب روپے تھی۔ 
حکومت نے جائیداد کے شعبے سے حاصل شدہ منافع پر 15فیصد کیپیٹل گینز ٹیکس (سی جی ٹی) عائد کیا تھا لیکن یہ آئندہ انکم ٹیکس ریٹرنز کے ساتھ عائد ہوگا۔

وزیراعلیٰ اور گورنر پختونخوا کو افغانستان سے ڈیل کی اجازت نہیں دیں گے: وزیر دفاع  

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: نے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں فیصد اور نان فائلرز کے لئے بڑھا کر فائلرز کے لئے کے پہلے نو ماہ میں جائیداد کی خرید کے لئے ایک فیصد کر دی ایف بی آر ٹیکس سال روپے تھی ٹیکس کی کی شرح میں یہ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور

اویس کیانی: وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے معروف صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقات کرتے ہوئے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ، معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اہم مشاورت کی۔

ملاقات میں ملک کی بڑی کاروباری شخصیات نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم نے کاروباری برادری کو ملکی معیشت کا اہم ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پائیدار معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی معاشی پالیسی کا بنیادی محور برآمدات میں اضافہ، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانے، کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بجٹ میں مختلف اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ حکومت ایسی صنعتوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو پیداوار، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ کر سکیں۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

اجلاس کے دوران کاروبار، صنعت اور تجارت کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ ٹیکس مقدمات کے فوری فیصلوں کیلئے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جبکہ خصوصی کمرشل کورٹس کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔

بریفنگ میں کراچی بندرگاہوں سے اندرون ملک رسائی بہتر بنانے، موٹرویز کی اپ گریڈیشن، ریلوے انفراسٹرکچر کی بہتری اور نیشنل اے آئی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

کاروباری رہنماؤں نے معاشی بحالی، ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری دوست ماحول کی فراہمی پر وزیراعظم اور حکومتی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ وفد نے بجلی کے نرخوں میں کمی، ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور کاروباری آسانیوں کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شرکاء نے آئندہ بجٹ کی تیاری میں کاروباری برادری کو اعتماد میں لینے کے اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے معاشی ترقی، صنعتی توسیع اور برآمدات میں اضافے کیلئے اپنی تجاویز بھی پیش کیں۔

 آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکسوں میں بڑی کمی اور فائلر کیلیےبڑے ریلیف  کی تجاویز
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا