Express News:
2026-06-03@02:19:17 GMT

اعصاب کی جنگ میں پاکستان نے انڈیا کو ناک آؤٹ کردیا

اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT

لاہور:

گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے کہ وہ صرف ایک یہ ایشو نہیں ہے وہ اللہ کے فضل سے ہر ایشو پہ ہماری کنسیسٹینسی کہیں پہ بھی نہیں ہے وہ ہمیشہ سے نہیں ہے، پتہ نہیں کیوں گورنمنٹ چینج ہوتی ہے تو اس کے بعد یہاں سارا کچھ چینج ہو جاتا ہے عجیب بات ہے حالانکہ پالیسی میکرز ایک پالیسی کو لیکر مسلسل چل رہے ہوتے ہیں اور اسی لیے انڈیا آپ کے سامنے ہے کہ وہ دنیا کو باور کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ 

ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نیویارک ٹائمز کی بھی رپورٹ ہے کہ وہاں تیاری جاری ہے وہ تیاری بھی اسی لیے ہوگی کہ اب اور تو کچھ رہا نہیں تو یہ کر کے دیکھ لیں۔

تجزیہ کار فیصل حسین نے کہاکہ ہمیں اور آپ کو تو یہ دعا کرنی چاہیے کہ جنگ نہ ہو۔ جنگ ہو گی تو دونوں فریقین کا نقصان ہوگا لیکن ہو بھی جائے اب تک کی صورت حال ہے، جنگ کے پہلے کہ جو مرحلے ہوتے ہیں جو نفسیات کی جنگ ہوتی ہے، اعصاب کی جنگ ہوتی ہے، جو قوت ارادی کی جنگ ہوتی ہے، یہ جنگ جو ہے پاکستان یوں سمجھ لیں کہ وہ صرف جیت نہیں گیا بلکہ اس نے بھارت کو ناک آؤٹ کر دیا ہے۔ 

تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ جنگ حل نہیں ہے بالکل جنگ حل نہیں ہے جنگ تباہی لے کر آئی ہے لیکن جو امن ہوتا ہے یعنی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اگر پاکستان امن کا خواہاں ہے اور کہہ رہا ہے کہ ہم امن کے خواہاں ہیں، لیکن دوسری طرف کیا جائے کہ اگر بی جے پی کی گورنمنٹے پی امن کی خواہاں نہیں ہے اور وہ کیوں نہیں ہے یہ چیز بھی ذرا دیکھنے کی ہے کہ بی جے پی گورنمنٹ پاکستان کے ساتھ امن کیوں نہیں چاہتی۔ 

تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ بیانیے کی جو بات آپ نے کی، بہترین رہی، سلامتی کونسل میں ہمارے لوگوں نے کام کیا، جو 5 اگست2019 کوانڈیا نے ڈرامہ کیا تھا وہ دبڑدھوس ہو گیا، اس سینس میں کہ اس کو متنازع علاقہ ہی ڈیکلیئر کیا گیا، وہ تو آرٹیکل 370 لگا کہ مطمئن تھا کہ ہمارا ایریا ہے اور پہلگام پر بات ہوگی تو یہ ہماری سفارتی کامیابی ضرور ہے اور ظاہر ہے کہ ہمارے میڈیا نے ذمے داری کا ثبوت دیا ہے چیزیں کلیئر کر کے بتائی ہیں۔

تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا بھارت کیلیے خود پریشانی ہوئی ہے کہ پاکستانی قوم کے بارے میں وہ سوچ رہے تھے کہ ڈیوائڈ ہے اور اپنی گورنمنٹ کے بڑے خلاف ہے لیکن اس وقت قوم میں جو یکجہتی دیکھنے میں آ رہی ہے، پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہو کر شانہ بشانہ، کہتے ہیں ہر محاذ پر لڑنے کے لیے تیار ہیں بلکہ یہ ہے کہ اس وقت جو قوم ہے یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ وہ انتظار میں ہے کہ کب جنگ شروع ہوگی اس کے لیے بالکل تیار کھڑے ہیں، ہر بندہ دیکھ رہا ہے کہ بھارت کو کس طرح ناک آؤٹ کرنا ہے، سوشل میڈیا پر تو ناک آؤٹ کردیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ناک ا ؤٹ کر تجزیہ کار ہے کہ وہ ہوتی ہے نہیں ہے جنگ ہو کی جنگ نے کہا ہے اور

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟