عالمی بینک کی پاکستان کیلیے 108 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ کی منظوری WhatsAppFacebookTwitter 0 29 April, 2025 سب نیوز


اسلام آباد:عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 108 ملین ڈالر کی اضافی فنانسنگ کی منظوری دے دی۔
رورل ایکسیسبیلٹی پروجیکٹ کے لیے 78 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی ہے۔
عالمی بینک کے مطابق منصوبے سے منڈیوں اور ملازمتوں تک رسائی کو بہتر بنایا جائے گا۔
اسی طرح، خیبر پختونخوا انٹیگریٹڈ ٹورازم ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے لیے 30 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ منصوبے سے صوبے میں قدرتی مزاحمت کو مضبوط بنایا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجسٹس عائشہ ملک کو یونیورسٹی آف لندن نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نواز دیا جسٹس عائشہ ملک کو یونیورسٹی آف لندن نے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نواز دیا عمران خان کی بطور وزیراعظم برطرفی، پی ٹی آئی مزاحمت نے ملک کو گہرے بحران میں مبتلا کردیا، عدالت ’اب میں ملک ہی نہیں دنیا بھی چلا رہا ہوں‘: ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات میں لبرل پارٹی کو برتری حاصل لاہور کیلئے اعزاز، نیویارک، لندن، واشنگٹن، برلن، استنبول، پیرس سے زیادہ محفوظ قرار مشترکہ مفادات کونسل نے دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کا منصوبہ ختم کردیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ملین ڈالر کی عالمی بینک کی منظوری کے لیے

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی