نریندر مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں ہندو انتہا پسندوں میں چالیس ہزار خطرناک ہتھیار بانٹ دیئے
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
سٹی42: پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں اپنے بے گناہ سیاحوں کو مار کر بھارت نے جو آگ لگائی ہے، اسے مزید بھڑکانے کے لئے گجرات کے قصائی نے مقبوضہ کشمیر مین اپنے انتہا پسند حامیوں مین ہتھیار بانٹ دیئے۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق نئی دہلی پر قابض نریندر مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے پیروکار انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دئیے ہیں۔
ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 40 ہزار سے زائد انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیئے ہیں۔
2 بچوں کے دل کے علاج کے لیے بھارت جانے والی فیملی پاکستان واپس پہنچ گئی
انتہا پسند ہندوؤں پر مشتمل یہ جتھے ’’ویلیج ڈیفنس گارڈز‘‘ کی آڑ میں پہلگام حملے کا بدلہ لینے کا نعرہ لگا کر مقبوضہ ریاست میں عام کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنائیں گے،۔
ہندو انتہا پسندوں کو دیئے گئے ہتھیاروں میں کلاشنکوف، بھارتی فوج میں استعمال ہونے والی INSAS رائفلیں شامل ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرستی میں مقبوضہ وادی میں نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کے 4 ہزار سے زائد گروپ کھڑے کئے ہیں۔
تعطیل کا اعلان
ہر "ویلیج ڈیفنس گارڈ" گروپ 15 سے 20 انتہاء پسند ہندوؤں پر مشتمل ہے، ان میں ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کی اکثریت ہے۔
یہ انتہا پسند ہندو جتھے پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔
ہندو انتہا پسندوں کے ان جتھوں کو بھارتی حکومت کی جانب سے تربیت اور تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ انتہا پسند ہندو جتھے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں آپریشنل بیس منتخب کرچکے ہیں۔ ان انتہا پسند ہندو جتھوں کا ہدف مقبوضہ کشمیر کے نوگام، اوڑی، پونچھ، راجوڑی اور نوشہرہ کے علاقے ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنااور لوٹ مار کرنا ہ اور خوف و ہراس پھیلا کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی بالادستی قائم کرنا ہے۔
قصور وار وردی میں بھی ہو تو ہر صورت سزا دلوائی جائے گی،ڈی آئی جی آپریشنز
بھارتی فوج ان گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ فوج کا مقصد فیک انکاؤنٹرز کے ساتھ ساتھ ان نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کی آڑ میں زیادہ سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنا ہے۔
ان نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے آبادی کے تناسب کو بھی متاثر کرنا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انتہا پسند مرکزی حکومت پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان کے اندر اپنی سپانسرڈ دہشتگردی سے دنیا کی توجہ ہٹا کر الٹا پاکستان پر الزام دھرنے کی بچگانہ کوشش کر رہی ہے، دوسری طرف نریندر مودی مقبوضہ ریاست میں اپنی بری طرح ہاری ہوئی بازی کو پلٹنے کا بچگانہ خواب دیکھ رہا ہے۔ مقبوضہ ریاست مین کشمیری عوام نے مئی 2024 میں بھارتی لوک سبھا کے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سزا دی تھی اور وادی مین اس کے تمام امیدواروں کو عبرت کا نشانہ بنا دیا تھا۔ اس کے بعد جب ستمبر 2024 مین کئی سال کے وقفے کے بعد ریاستی اسمبلی کے الیکشن ہوئے تو وہاں بی جے پی ور اس کی مقامی ایجنٹ ڈیموکریٹک پارٹی کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی ھکومت تھی، کشمیر کے عوام نے بی جے پی اور محبوبہ مفتی دونوں کی سیاست کا کریا کرم کر ڈالا۔ اس وقت سے نریندر مودی کشمیر کے عوام سے انتقام لینے کے درپے تھا۔ اب پہلگام فالس فلیگ حملے کے بعد اس انتقام کا آغاز ہو گیا جس کا نشانہ عام کشمیری مسلمان اور مقبوضہ کشمیر مین ووٹ سے بنی نریندر مودی کی مخالف کانرس اور نیشنل کانفرنس کی حکومت دونوں ہیں۔
سیاحوں کے پسندیدہ ترین سیاحتی مقام سیاحوں کے لئے بند کر دیئے گئے
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: انتہا پسند ہندو پسند ہندوو ں کشمیر کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔