پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر ایک دن میں دو انڈین کواڈ کاپٹر مار گرائے
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
پاکستان کی فوج نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر ایک ہی دن میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے دو انڈین کواڈ کاپٹرز کو مار گرایا۔ پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انڈین کواڈ کاپٹر کو پاکستانی حدود میں داخل ہوتے وقت نشانہ بنایا گیا ہے۔
اردو نیوز کو دستیاب معلومات کے مطابق پہلا انڈین کواڈ کاپٹر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے بھمبر میں منور سیکٹر میں گرایا گیا ہے۔ جبکہ دوسرا لائن آف کنٹرول کے ستوال سیکٹر پر گرایا گیا۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے دعوٰی کیا ہے کہ ان کواڈ کاپٹرز کو جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اس سے پہلے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’پاکستان ہائی الرٹ پر ہے۔‘
خواجہ آصف نے بتایا تھا کہ انڈین حملے کے امکانات کے پیش نظر سرحد پر پاکستان فوج کی موجودگی بڑھا دی گئی ہے اور دونوں ممالک کی افواج ’آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی‘ ہیں۔
گذشتہ ہفتے انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں عسکریت پسندوں نے 26 سیاحوں کو ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات کافی کشیدہ ہو گئے ہیں۔
انڈیا نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد معطل کر دیا جبکہ پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے اسلام آباد میں اپنا سفارتی عملہ بھی کم کر لیا۔ انڈیا میں پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے مطالبے بھی ہو رہے ہیں۔
پاکستان نے جوابی اقدامات کے طور پر شملہ معاہدے سے نکلنے کی دھمکی دیتے ہوئے جہاں انڈین شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا وہیں اپنی فضائی حدود بھی انڈین ایئرلائنز کے لیے بند کر دی۔
تاہم پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سنیچر کو کہا تھا کہ ’پاکستان پہلگام واقعے کی غیرجانبدارانہ، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات میں تعاون کے لیے تیار ہے، مشرقی ہمسایہ ملک بغیر ثبوت کے بے بنیاد الزام تراشی کر رہا ہے اور اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ’انڈیا کی جانب سے سخت بیانات آ رہے ہیں اور پاکستان کی فوج نے حکومت کو انڈین حملے کے امکان سے آگاہ کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: انڈین کواڈ پاکستان کے
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا