آفریدی کی فوجی شرٹ میں تصویر اور چائے کے کپ نے بھارتیوں آگ لگادی
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کی فوجی شرٹ میں ملبوس تصویر اور ہاتھ میں چائے کے کپ نے بھارتیوں کو تلملا کر رکھ دیا۔
گزشتہ روز سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے سابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون کے جواب پر طنزیہ جملہ کَستے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں وہ فوجی شرٹ پہنے اور ہاتھ میں چائے کا کپ لیے کھڑے ہیں۔
اس تصویر کے کیپشن پر سابق آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے لکھا کہ "چھوڑو جیت ہار کو! آؤ شیکھر تمہیں چائے پلاتا ہوں"۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعہ؛ کنیریا کے بعد دھون بھی آفریدی کیخلاف میدان میں اُتر گئے
سابق کپتان کے طنزیہ میسج پر بھارتی مداحوں نے نہایتی نامناسب کمنٹس کیے، جس پر انہیں دنیا بھر کے صارفین نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب ایک روز قبل سابق بھارتی کرکٹر شیکھر دھون نے ٹوئٹ کرتے ہوئے شاہد آفریدی کو تنقیدی جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ "کارگل میں بھی تمہیں ہرایا تھا اور کتنا گرو گے، ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے"۔
مزید پڑھیں: شاہد آفریدی کے پہلگام واقعے سے متعلق بیان پر دانش کنیریا تلملا اٹھے
قبل ازیں پہلگام واقعہ پر بھارتی فوج کی ناکامی پر سوال اٹھاتے ہوئے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا تھا کہ "وہاں پر پٹاخہ بھی پھٹ جائے تو پاکستان پر نام لگادیا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں 8 لاکھ بھارتی فوج ہونے کے باوجود یہ واقعہ ہوگیا اس کا مطلب تم نالائق اور نکمے ہو جو لوگوں کو سکیورٹی نہیں دے سکے"۔
مزید پڑھیں: سابق کپتان نے پہلگام واقعہ کو 'بھارت کا ڈرامہ' قرار دیدیا
سابق کرکٹر نے کہا کہ "2016 ٹی20 ورلڈکپ کے دوران حالات کشیدہ ہونے کے باوجود پاکستانی ٹیم بھارت گئی، ہمیں خود نہیں معلوم تھا جانا ہے یا نہیں، کبڈی کی بھارت کی ٹیم آجاتی ہے کرکٹ کی ٹیم نہیں آتی، اگر بند کرنا ہے تو تمام چیزیں بند کرو"۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی سابق کپتان
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔