وزارت صحت کا ٹیلی میڈیسن میں چینی ٹیکنالوجی سے استفادہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ چین کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے ٹیلی میڈیسن کے شعبے میں بھرپور پیش رفت کی جا رہی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے دوران چین کے نیشنل ہیلتھ کمشن سے ملاقات ہوئی جہاں چینی نیشنل ہیلتھ کمشن نے مصطفیٰ کمال کا پرتپاک استقبال اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں اور پاکستان میں ادویہ سازی کے شعبے میں چین سے ٹیکنالوجی کی منتقلی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی کی طویل تاریخ اور مضبوط بنیاد ہے۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ھے۔ مصطفیٰ کمال نے کووڈ-19 کے دوران چین کی جانب سے فراہم کی گئی امداد کو بھی سراہا خصوصاً ویکسین کی فراہمی پر وزیر صحت نے چینی حکومت کا حکومت اور عوام کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔
مصطفی کمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرائمری اور ٹرشری ہیلتھ کیئر کے درمیان خلا کو کم کرنے کے لیے ٹیلی میڈیسن کا استعمال ناگزیر ھے۔ پاکستان میں ٹیلی میڈیسن کے فروغ کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔ چین کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے اس شعبے میں بھرپور پیش رفت کی جا رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان کو صحت کے شعبے میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم ہر چیلنج نئے مواقع بھی لے کر آتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ادویات کے شعبے میں نجی شعبے کے اشتراک سے چین سے ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی کا خواہاں ھے اور دوا سازی کے بنیادی اجزا، خام مال کی پاکستان میں پیداوار پر زور دیتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں کے شعبے میں
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔