بلوچستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں تاریخ سے آگاہی ضروری ہے: سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
وزیرِاعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی — فائل فوٹو
وزیرِاعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں تاریخ سے آگاہی ضروری ہے۔
سرفراز بگٹی نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے بجائے تحقیق کی جانی چاہیے، قلات کے مخصوص علاقے کو پورے بلوچستان کا آپریشن کہنا درست نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ بیڈ گورننس اور عدم ترقی کا شکوہ حکومت سے ہوسکتا ہے ریاست سے نہیں، دہشتگرد ملک کو کیک کی طرح کاٹنا چاہتے ہیں۔
وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ تشدد، پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلایا جا رہا ہے، دشمن آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے بچوں اور نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر انڈیل رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ریاست یا فوج کی نہیں ہر فرد کی جنگ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ دہشت گردی مذہبی بنیادوں پر ہو یا لسانی بنیادوں پر قابلِ مذمت ہے، دہشتگرد شناخت کی بنیاد پر بلوچ، پنجابیوں کا نہیں پاکستانیوں کا خون بہا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان کو بہتر کرنے کا وقت آگیا ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ کنفیوژن سے نکل کر زمینی حقائق اور واضح سوچ کے ساتھ دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہوگا، جھوٹ پر مبنی مقبول بیانیے کے بجائے سچ اور حق کا ساتھ دینا ہوگا، ریاست ہر طرح سیاست سے اہم اور مقدم ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ ہر مصلحت سے بالا تر ہو کر ریاست کےلیے سوچنا ہوگا، گورننس کو بہتر بنانے کےلیے میرٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار محکمۂ صحت اور تعلیم میں میرٹ پر بھرتیاں ہوئیں، میٹرک تا پی ایچ ڈی اعلیٰ تعلیمی اداروں میں غریب طلباء کی رسائی ممکن ہوئی، آج بلوچستان کے غریب مزدور کا بچہ وہیں پڑھ رہا ہے جہاں صاحب حیثیت فرد کا بچہ پڑھتا ہے۔
اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ 30 ہزار نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر بیرون ملک روزگار کے لیے بھیج رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بلوچستان کے سرفراز بگٹی وزیر اعلی نے کہا کہ ا نہوں نے رہا ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔