پہلگام فالز فلیگ کے بعد بھارت پر جنگی جنون سوار، سرحدی علاقے خالی کروا لئے
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام کی بڑی تعداد مودی سرکار کی غیر منطقی پالیسیوں اور انتہا پسندی سے دلبرداشتہ ہے، بھارت کی جانب سے بغیر ثبوتوں کے خود پر جنگی جنون سوار کرنا مودی سرکار کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام فالز فلیگ کے بعد بھارت پر جنگی جنون سوار ہے اور روایتی انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مودی سرکار نے سرحدی علاقے خالی کرانا شروع کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام عائد کرنے کیلئے میڈیا پروپیگنڈا کا سہارا لیا اور اس کے بعد اب مودی سرکار نے جنگی جنون میں مبتلا ہو کر پاک بھارت سرحد سے متصل دیہات کو خالی کرانے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ بھارتی فوج نے سامبا، کٹھوا اور اکھنور سیکٹر میں مزید دیہات خالی کروا لیے ہیں۔ اس سے قبل اٹاری سیکٹر میں بھی بھارت نے گرودواروں سے اعلانات کروا کر عوام کو فصلوں کی کٹائی کیلئے احکامات دیئے تھے۔
بھارت نے اپنے ہی عوام کو حقائق سے بے خبر رکھنے اور ہندوتوا کا زہریلا پروپیگنڈا پھیلانے کیلئے سیکڑوں پاکستانی چینلز کو بھی بلاک کروا دیا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی عوام کی بڑی تعداد مودی سرکار کی غیر منطقی پالیسیوں اور انتہا پسندی سے دلبرداشتہ ہے، بھارت کی جانب سے بغیر ثبوتوں کے خود پر جنگی جنون سوار کرنا مودی سرکار کی ناکامی کی واضح علامت ہے۔ پہلگام فالز فلیگ کے بعد بھارتی حکومت کے انتہا پسندانہ اقدامات اس کی داخلی سیاسی مشکلات، عالمی سطح پر تنہائی اور اس کے خطرناک عزائم کو بھی آشکار کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پر جنگی جنون سوار مودی سرکار کی کے بعد بھارت
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک