ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے جب کئی بین الاقوامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ چین نے دنیا کا پہلا 10G انٹرنیٹ سسٹم متعارف کرا دیا ہے۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہی ہے۔

چینی میڈیا کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ خبریں غلط تھیں۔ درحقیقت چین نے صرف 10G ٹیکنالوجی کی آزمائش شروع کی ہے، جس کا تجربہ ہواوے کے تعاون سے ایک صوبے میں کیا جا رہا ہے۔ چینی ویب سائٹ ’چائنا منٹ‘ نے اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ صرف ایک آزمائشی پروگرام ہے، نہ کہ کوئی حتمی پیشرفت۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا بھر کے میڈیا نے ایک چینی ویب سائٹ کا حوالہ دیا جس نے خود بھی صرف آزمائش کی بات کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک بھی 6G سے 10G ٹیکنالوجی پر تجربات کر رہے ہیں، لیکن اب تک کسی نے بھی 10G انٹرنیٹ کو حتمی شکل میں پیش نہیں کیا۔

ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں۔ چین کے آزمائشی پروگرام میں ڈاؤن لوڈ اسپیڈ 9,934 میگابائٹس فی سیکنڈ اور اپ لوڈ اسپیڈ 1,008 میگابائٹس فی سیکنڈ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس رفتار سے 20GB کی فائل صرف 3 سیکنڈ میں ڈاؤن لوڈ ہو سکتی ہے!

ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہوتی ہے تو صحت، تعلیم، صنعت اور زراعت جیسے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں آئیں گی۔ لیکن فی الحال یہ صرف ایک آزمائش ہے، نہ کہ کوئی حتمی کامیابی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم  نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔

ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔

ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام