پاکستان میں رواں ہفتے گرمی کا عالمی ریکارڈ بن سکتا ہے. امریکی جریدے کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 اپریل ۔2025 ) پاکستان میں رواں ہفتے گرمی کا عالمی ریکارڈ بن سکتا ہے امریکی جریدے”واشنگٹن پوسٹ“ کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے جنوبی ایشیا میں گرمی 50ڈگری کے عالمی ریکارڈ کو چھو سکتی ہے جریدے نے خبر دار کیا کہ پاکستان کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری تک جا سکتا ہے واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے شہر نواب شاہ میں 2018 کے اپریل میں پارہ 50 ڈگری تک گیا تھا جو ایشیا بھر میں گرمی کا ریکارڈ تھا.
(جاری ہے)
دوسری جانب پنجاب سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں آئندہ چند روز تک ملک میں آندھی اور بارشوں کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق04مئی تک راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، منڈی بہاﺅالدین، گجرات، جہلم اور گوجرانوالہ میں گرد آلود ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے اس کے علاوہ لاہور، قصور ،سیالکوٹ،نارووال، اوکاڑہ ،فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں بھی آندھی اور بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے. محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش برسانے والے سسٹم کے ملک میں داخل ہوگیا جس سے ملک کے بیشتر علاقوں میں آندھی اور بارشیں ہوسکتی ہیں خیبر پختونخوا میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے جب کہ کچھ اضلاع اور بالائی مقامات پر تیز ہواﺅں کے ساتھ بارش کا امکان ہے. محکمہ موسمیات کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے موسمیاتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں شدید گرمی کا سامنا رہے گا جب کہ بالائی علاقوں میں بارش ہو سکتی ہے پشاور سمیت صوبے کے دیگر شہر کرم، اورکزئی اور مہمند کے کچھ مقامات پر تیز ہواﺅں کے ساتھ بارش کا امکان ہے. محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور شہر میں بادلوں اور سورج کے درمیان آنکھ مچولی جاری رہے گی شہر پشاور کا کم سے کم درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے اس کے علاوہ شہر میں ہوا کی نمی کا تناسب 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے صوبے کے دیگر اہم علاقوں میں بھی شدید گرمی متوقع ہے. ادھر کالام میں کم سے کم درجہ حرارت 10ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جب کہ سب سے زیادہ درجہ حرارت ڈی آئی خان میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے علاوہ ازیں چترال میں 33، تیمرگرہ میں 39، میرکھنی میں 35، بنوں میں 44، بالاکوٹ میں 38اور تخت بائی میں 40ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت جا سکتا ہے. محکمہ موسمیات نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ گرمی کی شدت سے بچا جا سکے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہنے جبکہ وقفے وقفے سے تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے. محکمہ موسمیات کے مطابق زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 سے 39 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے جبکہ کم سے کم درجہ حرارت 28.4گری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا کراچی میں جنوب مغرب سے سمندری ہوائیں 14کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں، ہوا میں نمی کا تناسب 65 فیصد ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈگری سینٹی گریڈ تک محکمہ موسمیات بارش کا امکان کا امکان ہے علاقوں میں صوبے کے سکتا ہے گرمی کا
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔