اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب، شرح سود میں کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
کراچی:
اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کے روز طلب کیا گیا ہے، جس میں شرح سود میں کمی کا امکان ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری اعلان کے مطابق بینک دولت پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس بروز پیر 5 مئی 2025ء کو منعقد ہوگا، جس میں آئندہ 2 ماہ کے لیے زری پالیسی کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا ۔
بعد ازاں اسٹیٹ بینک اسی دن ایک پریس ریلیز کے ذریعے تفصیلی زری پالیسی بیان بھی جاری کرے گا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے پاس دسمبر 2025ء تک شرح سود میں مزید 200 بیسز پوائنٹس کم کرنے کی گنجائش ہے، جس کی وجہ سے امید ہے کہ پیر کے روز ہونے والے اجلاس میں شرح سود میں کمی کی جا سکتی ہے۔
دریں اثنا میڈیا رپورٹس کے مطابق مالیاتی اداروں کی جانب سے ہونے والے تازہ سروے کی کے مطابق شرکا نے کم از کم 50 بیسز پوائنٹس کی کمی کا عندیہ دیا ہے جب کہ کچھ نے شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کم کرنے کی پیش گوئی کی ہے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک نے یوم مزدور کے موقع پر کل یکم مئی کو کمرشل بینکوں اور مالیاتی اداروں کی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق بینک دولت پاکستان جمعرات یکم مئی 2025ء ’’یومِ مزدور‘‘ کے موقع پر عام تعطیل کے سبب بند رہے گا جس کے سبب کمرشل بینک اور مالیاتی ادارے بھی بند رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زری پالیسی اسٹیٹ بینک کے مطابق
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔