Express News:
2026-06-03@07:24:41 GMT

لاہور کے بارڈر ایریا کے عوام کا مودی کو کرارا جواب

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

لاہور:

بھارت کی جانب سے جنگی جنون کے تحت اپنے سرحدی دیہات سے کھیت خالی کروانے کا عمل شروع ہو چکا ہے، لیکن دوسری جانب پاکستان کے سرحدی علاقوں میں نہ صرف زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے بلکہ عوام کے جذبے آسمان کو چھو رہے ہیں۔

لاہور کے نواحی سرحدی گاؤں منہالہ میں بزرگوں اور نوجوانوں نے بھارت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ’’اگر جنگ مسلط کی گئی تو پاک فوج کے شانہ بشانہ سرحدی عوام بھی مورچوں میں نظر آئیں گے۔‘‘

منہالہ گاؤں، جو پاک بھارت سرحد سے متصل ہے اور جہاں کی غالب آبادی میواتی برادری پر مشتمل ہے، ان دنوں خبروں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ وہی برادری ہے جو 1947 میں ہجرت کرکے پاکستان آئی اور تب سے ان سرحدی علاقوں کو اپنا مسکن بنا چکی ہے۔

گاؤں کے نمبردار خضر حیات نے جرات مندانہ لہجے میں کہا کہ بھارت اگر جنگ کا شوق رکھتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں بھی ہم نے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کا کردار ادا کیا تھا اور آج بھی اسی جذبے کے ساتھ اپنی فوج کے آگے کھڑے ہوں گے۔

سابق نائب ناظم رانا ثقلین احمد نے ماضی کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2001 میں جب سرحدی حالات کشیدہ ہوئے، تو ہم نے فوج کے ساتھ مل کر مورچے بنائے، بارودی سرنگیں بچھائی گئیں۔ آج بھی وہی جذبہ اور وہی تیاری ہمارے اندر موجود ہے۔

اسی گاؤں کے بزرگ ماسٹر اللہ دتہ نے کہا کہ ہم پرامن لوگ ہیں، لیکن اگر دشمن نے جنگ مسلط کی تو پھر جہاد اور شہادت ہمارے ایمان کا حصہ ہیں۔ مودی کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ اس کی آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔

ایک اور مقامی بزرگ محمد اشرف نے کہا کہ اگر جنگ چھڑی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ دشمن کے علاقوں میں داخل ہو کر بتائیں گے کہ سرحدی عوام کی جرات کیا ہوتی ہے۔ اٹاری اور نوشہرہ کے بھارتی دیہات ہمارے سامنے ہیں، ہم انہیں خالی کروا لیں گے۔

نوجوان ممتاز احمد نے حالیہ جنگی واقعات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ بالاکوٹ میں بھارت نے صرف ہمارے دو درخت گرائے تھے اور جواب میں ہم نے ان کے دو طیارے مار گرائے۔ ابھی نندن کو اسی واہگہ بارڈر سے واپسی کا راستہ دکھایا۔ آج ہمارے 85 گاؤں معمول کے مطابق سرگرم عمل ہیں، جبکہ بھارت اپنے کسانوں کو کھیت چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔

منہالہ سمیت تمام سرحدی دیہات کے لوگ سیاسی و ذاتی اختلافات بھلا کر یکجہتی کے ساتھ ملکی دفاع کے لیے متحد ہو چکے ہیں۔ ایک ہی پیغام گونج رہا ہے۔ جنگ اگر مسلط کی گئی تو پاکستان کی عوام اور افواج ایک ہو کر دشمن کو ایسا سبق سکھائیں گے جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے

اسلام آباد:

سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔

دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔

دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔

دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے