332غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ،پی اے سی نے چیئرمین پی اے آر سی غلام علی کو طلب کر لیا،پی اے آر سی مکمل طورپر کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ، عامر ڈوگر
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
332غیر قانونی بھرتیوں کا معاملہ،پی اے سی نے چیئرمین پی اے آر سی غلام علی کو طلب کر لیا،پی اے آر سی مکمل طورپر کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ، عامر ڈوگر WhatsAppFacebookTwitter 0 30 April, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (ارمان یوسف )پبلک اکائونٹس کمیٹی نے 332غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر چیئرمین پی اے آر سی غلام علی کو طلب کر لیا، رکن کمیٹی عامر ڈوگر نے کہا کہ پی اے آر سی مکمل طورپر کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ،چیئرمین پی اے آر سی عدالتی حکم کے باوجود عہدے پر براجمان ہے ، وزیراعظم نے ڈاکٹر غلام علی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا، دوسری طرف انہیں صدارتی ایوارڈ دیا جا رہا ہے ،اس ملک میں کیا ہو رہا ہے ، سمجھ سے بالا تر ہے ، ادارے کی کارکردگی کو خصوصی آڈٹ کروایا جائے ۔
تفصیلات کے مطابق بدھ کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل میں خلاف ضابطہ تین سو بتیس افسران کی تعیناتیاںکا معاملہ زیر غور آیا۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ پی اے آر سی نے ایک سو چونسٹھ کی بجائے تین سے بتیس افسران کی بھرتیاں کیں ،تعیناتیوں کے وقت صوبائی اور علاقائی کوٹہ کی خلاف ورزی کی گئی ۔پی اے آر سی کے قائم مقام چیئرمین پی اے سی میں پیش ہوئے جس پر کمیٹی نے استفسار کیا کہ مستقل چیئرمین کہاں ہیں ، جس پر بتایا گیا کہ چیئرمین پی اے آر سی غلام محمد علی تین ماہ کی چھٹی پر ہیں۔رکن کمیٹی عامر ڈوگر نے کہا کہ چیئرمین پی اے آر سی غلام محمد علی کو فیس سیونگ کیلئے سائیڈ پر کر دیا گیا ہے،چیئرمین پی اے آر سی کے حوالے سے ہائی کورٹ کی آبزرویشن بھی اہم ہے۔آڈٹ حکام نے بتایا کہ بھرتیوں میں صوبائی کوٹہ پر بھی عمل نہیں کیا گیا، صرف 3اضلاع سے 332 افراد کو بھرتی کیا گیا،بھرتی کیے گئے افراد کے ڈومیسائل بھی فراہم نہیں کیے گئے۔
قائم مقام چیئرمین پی اے آرسی نے بتایا کہ332میں سے 206سائنسدان ہیں جنہیں میرٹ پر بھرتی کیا گیا۔چیئرمین کمیٹی جنید انور نے کہا کہ آفریدی صاحب آپ اس طرح کے بیانات نہ دیں جس کی آپ بعد میں وضاحت نہ کر سکیں، اشتہار میں ضابطہ کا اور کوٹہ سسٹم کا خیال نہیں رکھا گیا۔رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ اشتہار سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملے میں بدنیتی شامل تھی، آپ یہاں بیٹھ کر کسی اور کے ایکشن کا جواب دیے رہے ہیں۔ممبران کمیٹی نے کہا کہ صرف تین اضلاع سے بھرتیاں کی گئیں ، معاملہ نیب کو بھیجا جائے ، چیئرمین پی اے آر سی اپنے آپ کو بچانے کیلئے چھٹی پر گئے ہیں۔پی اے آر سی حکام نے بتایا کہ اشتہار کے بعد ہمیں ڈیمانڈ آگئی جس کی وجہ سے آسامیوں کی تعداد بڑھائی گئی۔ پی اے سی نے چیئرمین پی اے آر سی کی چھٹی کی درخواست طلب کرلی ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ بچے کس کے رشتہ دار بھرتی کیے گئے ہیں ،اس لسٹ میں چیئرمین اور سیکرٹری کے رشتہ داروں کے نام موجود ہیں ،تمام افسران کے رشتہ دار بھی اس لسٹ میں موجود ہیں۔ اجلاس میں سیکرٹر ی فوڈ سیکیورٹی نے پی اے آر سی میں خلاف ضابطہ بھرتیوں کا اعتراف کرلیا اور کہا کہ پی اے آر سی نے اپنے بورڈ میں اس عمل کو ریگولر کروانے کی کوشش کی انہوں نے نہیں کیا، میں اس عمل سے اتفاق نہیں کرتا۔ جس پر پی اے سی نے چھ مئی کو چیئرمین پی اے آر سی کو طلب کرلیا۔
پی اے سی کا چیئرمین پی اے آر سی غلام محمد علی کے خلاف غیر قانونی بھرتیوں کا کیس نیب کو بھجوانے پر غور۔ چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی نے ریمارکس دیئے کہ اگر چیئرمین پی اے آر سی اس اقدام کا دفاع نہ کر پائے تو معاملہ نیب کو بھجوا دیں گے،مجھے معلوم ہے کہ بھرتی ہونے والے کس کس کے رشتہ دار ہیں، اس فہرست میں وفاقی وزیر اور چیئرمین پی اے آر سی کے دشتہ داروں کے نام بھی ہیں۔ رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ یہ حال ہے تو مستحق نوجوان کہاں جائیں گے،نوکریوں میں بندر بانٹ ہوگی تو پاکستان کا ہونہار طالبعلم کہاں جائے گا، ڈاکٹر غلام علی کو طلب کیا جائے اور معاملے کی پڑتال کی جائے۔رکن کمیٹی حسین طارق نے کہا کہ پاکستان زرعی تحقیقاتی ایک ریسرچ ادارہ ہے اور ان کی کارکردگی صفر ہے، پی اے آر سی میں اسوقت بھی 250افراد بھرتی کیے جا رہے ہیں،ان بھرتیوں کی بھی تفصیلات چیک کرنے چاہئیں۔ رکن کمیٹی عامر ڈوگر نے کہا کہ پی اے آر سی مکمل طورپر کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ،چیئرمین پی اے آر سی عدالتی حکم کے باوجود عہدے پر براجمان ہے ، وزیراعظم نے ڈاکٹر غلام علی کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیا، دوسری طرف انہیں صدارتی ایوارڈ دیا جا رہا ہے ،اس ملک میں کیا ہو رہا ہے ، سمجھ سے بالا تر ہے ، ادارے کی کارکردگی کو خصوصی آڈٹ کروایا جائے
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرادارہ جاتی اصلاحات کرلیں تو یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، وزیر خزانہ ادارہ جاتی اصلاحات کرلیں تو یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہوگا، وزیر خزانہ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا نسٹ میں تیکا کے تعاون سے جدید اناطولو کریئیٹر لیب کا افتتاح سپریم کورٹ، مخصوص نشستوں کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کیس سماعت کیلئے مقرر پی ٹی آئی مخصوص نشستیں کیس، نظرثانی درخواست سماعت کیلیے مقرر نائب وزیر اعظم اسحق ڈار اور ڈی جی آئی ایس پی آر آج اہم پریس کانفرنس کریں گے بھارت کی ایل او سی پر بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، دشمن خاموشCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین پی اے آر سی غلام قانونی بھرتیوں غلام علی کو طلب کہ پی اے آر سی نے بتایا کہ پی اے سی نے بھرتیوں کا رکن کمیٹی عامر ڈوگر کو طلب کر نے کہا کہ کمیٹی نے کے رشتہ رہا ہے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :