پشاور:

خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کوہستان کے سرکاری بینک اکاؤنٹس سے 36 ارب روپے سے زائد کی مبینہ خردبرد کے انکشاف کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ہنگامی اجلاس اسپیکر اور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا جس میں اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ کے مشیر سہیل آفریدی، اراکین اسمبلی سجاد اللہ خان، میاں شرافت، شفیع اللہ جان اور آصف خان محسود کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی سیکٹریٹ کے سینیئر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں ان میڈیا رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جن کے مطابق ضلع اپر کوہستان میں ضلعی اکاؤنٹس آفیسر، محکمہ مواصلات و تعمیرات، نیشنل بینک کے اہلکاروں اور دیگر کی مبینہ ملی بھگت سے جعلی تعمیراتی کمپنی کے ذریعے 36 ارب روپے سے زائد کی مشکوک مالی لین دین، سرکاری اکاؤنٹس سے ہزاروں جعلی چیکس کے اجرا کا انکشاف ہوا ہے.

اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپیکر کے پی اسمبلی بابر سلیم سواتی نے فوری اور مؤثر ایکشن لیتے ہوئے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا خصوصی اجلاس پیر، 5 مئی 2025 بوقت صبح 11 بجے کو طلب کر لیا۔

اجلاس میں سکریٹری خزانہ، ڈی جی نیب پشاور، اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا، آڈیٹر جنرل آف خیبرپختونخوا، سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات اور ڈی جی آڈٹ خیبر پختونخوا کو باضابطہ طور پر شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔

اسپیکر نے ہدایت کی کہ تحقیقات کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی جا ئے، خیبرپختونخوا اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے متعلقہ محکموں کو مراسلے جاری کر دیے گئے ہیں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے کہا عوام کے خون پسینے کی کمائی کو لوٹنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور تمام ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "محکمہ خزانہ کے اہل افسران کے سامنے اس دھوکا دہی کو روکنے میں ناکامی کی پوری تحقیقات کی جائیں گی۔" بابر سواتی نے کہا کہ مالیاتی شفافیت اور مؤثر احتساب کے بغیر عوامی اعتماد بحال نہیں ہو سکتا اور اسمبلی اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری

خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔

نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔

ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف