وزیراعظم کو نریندر مودی سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم ایک دوسری کی تباہی چاہتے ہیں؟ معید یوسف
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
سیکیورٹی امور کے ماہر معید یوسف نے کہا ہے کہ میرا وزیراعظم شہباز شریف کو مشورہ ہوگا کہ وہ ٹیلی فون پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات کریں اور ان سے پوچھے کہ کیا ہم ایک دوسرے کی مکمل تباہی چاہتے ہیں؟
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مودی سے پوچھنا چاہیے کہ دونوں ممالک کو یہیں رہنا ہے ایسے میں کیا آپ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات چاہتے ہیں یا انہیں مہذب ہمسایہ اقوام کی طرح آگے بڑھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی وزیرخارجہ کا وزیراعظم شہباز شریف کے بعد بھارتی ہم منصب سے رابطہ، پاکستان کیساتھ مل کر کام کرنے پر زور
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کوچاہیے کہ وہ مودی کو بتائیں یہاں کے عوام کے جذبات کو میں بھی کنٹرول نہیں کرسکتا کیوں کہ جو بلوچستان میں ہورہا ہے اور جو بھارت کررہا ہے وہ عوام دیکھ رہے ہیں، ایسے میں اگر انڈیا جنگی جنون میں رہنا چاہتا ہے تو اس کی مرضی آپ اپنی توجہ ان کاموں پر مرکوز رکھیں جو آپ کرتے آرہے ہیں۔
معید یوسف نے کہا کہ انڈیا نےجس طرح پہلے کیا تھا اسی طرح اس بار بھی کوئی قدم اٹھاسکتا ہے کیوں کہ مودی نے کشیدہ ماحول بنایا ہوا ہے البتہ اس کے لیےتیار ہونا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا بھارت پہلگام جنگ سیکیورٹی امور کشیدگی نعید یوسف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انڈیا بھارت پہلگام سیکیورٹی امور کشیدگی نعید یوسف
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔